امریکہ کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگا: ایرانی پروفیسر

تہران، ارنا – ایرانی بین الاقوامی امور کے ماہر نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نے امریکہ کے لئے کچھ حاصل نہیں کیا لہذا جس ملک میں صدارتی انتخابات میں جیت لینے والے کو اس پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگا۔

یہ بات "فواد ایزدی" نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے امریکی صدارتی انتخابات کے بعد زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی قسمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ایران کے خلاف یہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے لہذا امریکی صدارتی انتخابات میں جیت لینے والے شخص کو اس پالیسی میں اصلاح کرنا ہوگا کیونکہ امریکہ نے تصور کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کے نتیجے میں تباہ یا ہتھیار ڈال کردیا جائے گا لیکن ان دونوں مقاصد میں سے کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔
ایزدی نے کہا کہ ایران پابندیوں کے باوجود ترقی کر رہا ہے اور جوہری ہتھیاروں کے شعبے میں ایران جتنا زیادہ ترقی کرے گا اتنا ہی امریکہ کو پریشانی زیادہ ہوگا اور اس صورتحال میں ہر امیدوار کا صدر بنے گا  اسے ایران کے سامنے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانی ہوگی۔
انہوں نے آئندہ امریکی انتخابات کے نتائج کو ایران کے لئے فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ کو ایک بار پھر امریکی صدر منتخب کیا گیا تو وہ امریکہ کے زوال کو تیز کردیں گے جو اسلامی جمہوریہ ایران کے مفاد میں ہے اور اگر جو بائیدن منتخب ہوئے تو ٹرمپ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں کم کردی جائیں گی جسے ہمارے ملک کے مفاد میں بھی ہو گا۔
انہوں نے مشرقی ایشیاء اور غیر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور مضبوطی کو بہت موثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ پالیسی جاری رہی تو اگر ٹرمپ یا بائیدن امریکہ کے صدر منتخب ہوں گے تو  اس سے ملک کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 1 =