ایران کا 2021 تک سوئس مالیاتی نظام کے بھر پور نفاذ کیلئے پُر امید  

تہران، ارنا- ایران-سوئٹزرلینڈ کے مالیاتی نظام کی کارکردگی ابھی توقع کے مطابق نہیں ہے لیکن امید کی جارہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں، خاص طور پر جب ایرانی بینکوں پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں تو یہ مالیاتی نظام ایران اور سوئٹزرلینڈ کے مابین تجارت کا ایک وسیع حصہ پورا کرسکے گا۔

ان خیالات کا اظہار ایران اور سوئٹزرلینڈ کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ "شریف نظام مافی" نے اتوار کے روز گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کیجانب سے ایران کے 18 بینکوں پر نئی پابندیاں لگانے کا مقصد در اصل ایران کی بین الاقوامی تجارت بالخصوص انسان دوستانہ مصنوعات جیسے خوراک اور ادویات کی تجارتی لین دین کی راہ میں مزید رکاوٹیں حائل کرنا ہے۔

نظام مافی نے کہا کہ ان 18 بینکوں کا بائیکاٹ اچھی خبر نہیں ہے؛ تاہم اس وقت ان پابندیوں کا نفاذ بھی انتخابات سے پہلے کے پروپیگنڈہ اقدام سمجھا جاتا ہے؛ خاص طور پر چونکہ ٹرمپ کی ٹیم اپنے حریف سے کچھ پیچھے رہ گئی ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ 4 نومبر کو ہونے والا امریکی انتخابات میں ہار جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کی اگلی حکومت کیلئے ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے اور بینکوں کی سرگرمیوں کی بحالی کو مشکل یا کہ حتی غیر ممکن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 نظام مافی نے کہا کہ اگر ٹرمپ ناکام ہوجائے اگلی انتظامیہ کا اقتدار سنبھالنے میں تین سے چار ماہ لگیں گے لہذا ایران کو مزید پابندیوں کیلئے تیار رہنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ ایک ایسی صورتحال میں ایران کیلئے سوئس مالیاتی نظام، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا ایک وسیع حصہ پورا کرسکے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 2 =