ایران اور روس کے صدور کی مسئلے قرہ باغ کے حل میں تعاون پر بات چیت

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے اپنے روسی ہم منصب سے ایک ٹیلی فونک  رابطے کے دوران کہا ہے کہ مسئلہ قرہ باغ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ایران، اس مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات، بین الاقوامی قوانین اور ممالک کی قومی خودمختاری کے احترام کے فریم ورک کے اندر آذربائیجان اور آرمینیا سے تعاون کرنے پر تیار ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کے روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کیساتھ گفتگو کرتے ہئے کیا۔

انہوں نے دو ہمسایہ ممالک آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان فوجی تناؤ پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسلئے میں بعض ثالث فریقین کی مداخت اس بحران کو مزید طویل بنائے گی اور یہ علاقائی ممالک کے مفادات میں نہیں ہے۔

صدر روحانی نے حالیہ دونوں میں اپنے آذربائیجان اور آرمینیا کے ہم منصبوں کیساتھ ٹیلی فونک رابطے میں ایرانی سرحدوں کی سلامتی اور اس علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے جانوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں قیام امن ہمارے لیئے انتہائی اہم ہے۔

 انہوں نے علاقے قرہ باغ میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور اس تناؤ میں شرکت پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان دہشتگرد گروہوں کی موجودگی ایران، روس اور علاقے کیلئے خطرہ ہے۔

صدر روحانی نے تناؤ کے خاتمے، جنگ بندی اور مذاکرات کے انعقاد کیلئے باہمی کثیرالجہتی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تناؤ کے تسلسل کی صورت میں علاقے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگی اور ہمیں بڑی جانی اور مالی نقصانات کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے روس کیجانب سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی کیلئے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس حوالے سے ہر کسی قسم کے تعاون پر تیار ہے۔

ایرانی صدر نے باہمی تجارتی لین دین پرکرونا وائرس کے بُرے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ایران اور روس کے درمیان صحت کے حفاظتی تدابیر کے فریم ورک کے اندر تجارتی تعلقات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے روس سے کرونا وائرس کی ویکسن کی تیاری کیلئے تعاون پر دلچسبی کا اظہار کرلیا۔

صدر روحانی نے بین الاقوامی سطح پر روس کیجانب سے ایران کی حمایت اور نیز ایران مخالف امریکی پابندیوں سے متعلق روس کے تعمیری موقف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔

اس موقع پر روسی صدر نے مسئلے قرہ باغ سے متعلق ایرانی خدشات کو بجا طور پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل اور مذاکرات کے آغاز کیلئے ایران سے تعاون پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرہ باغ مسئلے سے متعلق ایران کا موقف ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ پہلے جنگ کا خاتمہ دینا ہوگا اور ہم نے آذربائیجان اور آرمینیا کے حکام سے مذاکرات کے ذریعے 10 اکتوبر میں جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ جنگ بندی، مذاکرات کا پیش خیمہ ہوگا۔

انہوں نے مسئلے قرہ باغ میں بعض ثالث فریقین کی مداخلت اور اس تناؤ میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سارے ہمسایہ ملکوں کو اس تناؤ کے خاتمے کیلئے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ جوہری معاہدے ایران کیخلاف عائد پابندیوں سے متعلق ہمارا موقف واضح ہے اور ہم ایران کیخلاف غیر قانونی اقدامات کے مخالف ہیں۔

انہوں نے دونوں ممالک کی تجارتی لین دین پر کرونا کے بُرے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ کرونا پر قابو پانے سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 7 =