نئی بینکاری پابندیوں کے باوجود سوئس مالیاتی چینل کا کام جاری ہے

تہران، ارنا - ایران اور سوئٹزرلینڈ کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ  نے رواں سال اگست سے ایران کو سوئس مالیاتی چینل کے ذریعے تین ادویات کھیپیں بھیجنے کا ذکر کرتے ہوئے 18 ایرانی بینکوں پر امریکی نئی پابندیاں سوئٹزرلینڈ کے ساتھ انسانی تجارت کو متاثر نہیں کرتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ایران اور سوئٹزرلینڈ کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ شریف نظام مافی" نے ہفتہ کے روز ارنا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ارنا کے مطابق امریکی حکومت نے 8 اکتوبر  ایرانی عوام پر مزید دباو ڈالنے کیلیے 18 ایرانی بینکوں پر نئی پابندیاں عائد کیں۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول نے جمعرات کے روز ایرانی عوام کو گھٹنوں تک لانے کے مقصد کے ساتھ امین کیپیٹل کمپنی، زرعی ، ہاؤسنگ ، ورکرز ویلفیئر ، شہری ، نیا اکانومی ، رسالت ، حکمت ایرانی اور ایران زمین بینکوں پر نئی پابندیاں عائد کیں۔

اس بیان میں اسلامی علاقائی تعاون ، کارافرین ، مڈل ایسٹ ، مہر ایران کریڈٹ انسٹی ٹیوشن ، پاسارگاد ، سامان ، سرمایہ ، کوآپریٹو ڈویلپمنٹ  اور سیاحت بینکیں اس فہرست بھی شامل ہیں۔

شریف نظام مافی نے کہا کہ نئی پابندیوں سے ایران اور سوئٹزرلینڈ کے مالیاتی چینلز پر اب تک کوئی نظریاتی اثر نہیں پڑا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ عملی طور پر ہم اس انسان دوستانہ راستے سے فائدہ اٹھانے کے عمل میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔

انہوں نے آنے والے امریکی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس مرحلے پر بینکنی پابندیاں ایک ایسے گروپ  جو آئندہ انتخابات میں ان کی شکست کا امکان ہے، کے لئے ایک پروپیگنڈا اقدام ہے تا ایران اور امریکہ کے تعلقات مسائل کے حل یا معمول پر لانے کے لئے اگلی امریکی حکومت کی سرگرمی میں مسائل پیدا کریں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 1 =