ایران کا آذربائیجان اور آرمینیا کے تناؤ کے خاتمے میں کردار ادا کرنے پر تیار

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تناؤ کے جلد از جلد خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران، باکو-یریوان تنازعہ کو بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کی تسلیم شدہ سرحدوں کے مطابق حل کرنے میں کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے آج بروز منگل کو اپنے آذربائیجان کے ہم منصب "الہام علی اف" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کیساتھ تمام ایرانیوں کے بہت قریب سے تاریخی، تہذیبی اور مذہبی مشترکات ہیں اور ایران اور آذربائیجان  کے مابین ہمیشہ سے بہت قریبی تعلقات ہیں، اسلامی جمہوریہ کے حکام نے حالیہ تنازعہ پر بھی بہت واضح مؤقف اپنایا ہے۔

صدر روحانی نے دیگر ملکوں کیجانب سے آذربائیجان اور آرمینیا کے حالیہ تناؤ میں مداخلت اور اسے علاقائی جنگ میں تبدیل کرنے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے خصوصا شمالی سرحدوں کی سلامتی، استحکام اور سکون ہمارے لیئے بہت اہم ہے اور یہ تنازعہ اور سرحدوں کی مسلسل عدم تحفظ کچھ دہشت گرد گروہوں کی دراندازی کا باعث نہیں بنا چاہیے۔

 انہوں نے دونوں ملکوں کے مابین سرحدی تنازعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ جنگ اور تنازعہ شہری جنگ کا باعث نہیں بنے گا جس سے لوگوں کے بے گھر ہونے اور عام شہریوں کے قتل کا باعث بنے گا جو انتہائی تکلیف دہ اور خطرناک ہے۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تناؤ کے جلد از جلد خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران، باکو-یریوان تنازعہ کو بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کی تسلیم شدہ سرحدوں کے مطابق حل کرنے میں کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔

انہوں نے آرمینیا، آذربائیجان کیساتھ ایران کی مشترکہ سرحدوں اور ان علاقوں میں رہنے والے ایرانی پاشندوں کے جان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر آذربائیجان کے صدر نے قومی سالمیت کے تحفظ اور قرہ باغ مسئلے سے متعلق ایرانی حکام کے تعمیری موقف کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مشترکہ سرحدوں کی سلامتی اور دہشتگرد گروہوں کی دراندازی سے متعلق ایرانی حکام کے خدشات کو بجا طور پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کی سلامتی کو آذربائیجان کی سلامتی سمجھتے ہیں اور اس تناؤ کی وجہ سے ہمسایہ ملکوں میں بد امنی پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

الہام علی اف نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو اسٹریٹجک قرار دیتے ہوئے باہمی تعلقات کی توسیع پر دلچسبی کا اظہار کرلیا۔

انہوں نے خطے میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کو تہران باکو تعاون کے شعبے میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور سکون کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور ہم سب کو اس کے حصول کے لئے کام کرنا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 8 =