خاتم تعمیراتی کیمپ نے ایرانی تیل کی صنعت میں ٹوٹل کمپنی کا ریکارڈ توڑ دیا

تہران، ارنا- ختم الانبیا کیمپ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل "سعید محمد" نے کہا ہے کہ مغربی کارون کی آئل سوپر پروجیکٹ کے استحصال کے قریب ہونے سے خاتم الانبیا تعمیراتی کیمپ کے ماہرین نے ہمارے ملک کی تیل کی صنعت میں ٹوٹل کمپنی کا ریکارڈ توڑ دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کارون میں تیل سے وابستہ گیسوں کا ایک مجموعہ جس کو این جی ایل کاروں کہا جاتا ہے؛ ایک آئل سپر پروجیکٹ ہے جس نے اپنے آپریشن کیساتھ ہی تیل کنوؤں سے نکالی گیسوں کا رخ موڑ دیا، جو مسجد سلیمان میں تیل نکالنے کے تقریبا پہلے مرحلے سے ہی ان کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لئے کوئی اہم اور سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا گیا تھا اور صرف جلا دیا گیا تھا ، اس نیٹ ورک میں قابل استعمال گیس اور شہری گیس کی فراہمی سمیت پیٹرو کیمیکل صنعتیں کے خام مل کی بھی فراہمی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی پریشانیوں کی روک تھام اور ملک کیلئے سالانہ آمدنی میں 500 ملین ڈالر پیدا کرنے کے علاوہ یہ اقدام ایک اور بڑی کامیابی بھی لاتا ہے اور یہ دنیا کی مشہور اور تیل کی سب سے بڑی کمپنی ٹوٹل کا ریکارڈ توڑ رہی ہے جس نے گذشتہ برسوں میں خصوصی مراعات کیساتھ ملک میں بغیر کسی خاص فائدہ سے چل رہی ہے۔

جنرل سعید محمد نے کہا کہ 2019 میں ایران گیس جلانے کے معاملے میں دنیا میں چوتھے نمبر پر تھا اور 13 ارب مکعب میٹر موبائل گیس تباہ کردی گئی تھی جس سے ملک کی آمدنی کمی اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوگئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی کے خاتم الانبیہ تعمیراتی کیمپ کے ماہرین کے لئے یہ قابل قبول نہیں تھا کہ ہمارے ملک میں گیس جلانے کی شدت کچھ ہمسایہ ممالک کی نسبت 10 گنی ہو، کیونکہ مثال کے طور پر 2015 میں ساؤتھ پارس ریفائنری میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس کی مقدار تقریبا 9 ارب مکعب میٹر تھی اور اس طرح کا کافی حجم ضائع ہوچکا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 12 =