سرحد پر منڈیاں قائم کرنا پاک-ایران کے وسیع تر مفاد میں ہیں: ایرانی سفیر

پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے باردڑز پر طویل مشترکہ سرحد پر منڈیاں قائم کرنا دونوں ممالک کے وسیع تر مفادات میں ہیں جس سے تجارت اور معیشت کیلئے اہداف مقرر ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار " سید محمد علی حسینی" نے پاکستانی اخبار "جناج" کیساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کیجانب سے ایران پر معاشی دباؤ دو طرفہ تجارت میں رکاوٹ کا سبب ہیں اور امریکی صدر کا یہ اقدام انسانیت کے مخالف ہے۔

حسینی نے کہا کہ خلیج فارس ممالک کیجانب سے ناجائر صیونی ریاست سے تعلقات قائم ہونے کی وجہ سے مشترکہ سرحدی ممالک کی سلامتی کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین پر اسرائیلی افواج کے ناجائر قبضے سے خطے کی صورتحال تبدیل نہیں ہوسکتی۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھتا ہے اور امریکہ نے افغانستان میں کوئی تعمیری کام نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران مسلئے کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ثقافتی، تجارتی، مذہبی اور تاریخی تعلقات موجود ہیں اور باہمی تجارتی حجم ڈیرھ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

حسینی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان معیشت، تجارت، سیاست اور عسگری سطح پر باہمی تعلقات قائم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں اسلامی ممالک کے درمیان پیار، محبت اور مذہبی ہم آہنگی کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں کی وجہ سے تجارتی رکاوٹ موجود ہے جو دو اسلامی ممالک کے درمیان رخنہ ڈالنے کی بین الاقوامی مثال ہے، لیکن بہت جلد اس رکاوٹ کو دور کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان او آئی سی، ای سی اور اور ڈی ایٹ جیسے فورمز پر تعاون جاری ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 7 =