چابہار اور گوادر بندرگاہوں کے تعاون سے خطے کی خوشحالی کو تقویت ملے گی: ایرانی سفیر

اسلام آباد، ارنا- پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے چابہار اور گوادر پورٹس کے درمیان کسی بھی مقابلے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں بندرگاہوں کے درمیان رابطے اور تعاون سے خطے میں باہمی تجارت اور خوشحالی کو تقویت ملے گی۔

ان خیالات کا اظہار "سید محمد علی حسینی" نے پاکستانی کی معاشی اخبار بزنس ریکارڈر سے انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گوادر اور چابہار پورٹس کا رابطہ خطے میں خوشحالی اور ترقی کا وعدہ دیتا ہے۔

حسینی نے کہا کہ ایران کبھی بھی چابہار اور گوادر کو حریف نہیں مانتا اور یہ بندرگاہیں مشترکہ تجارتی اور علاقائی تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چابہار اور گوادر؛ ایران اور پاکستان کی دو اہم بندرگاہیں ہیں جن کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہونے سے علاقائی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔

انہوں نے چابہار کی توسیع کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کی منصوبہ بندیوں اور ساتھ ہی پاکستان کیجانب سے تجارتی مقاصد کیلئے گوادر پورٹ کے بنیادی ڈھانچوں کے فروغ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ جماعتیں چابہار اور گوادر کو حریف بندرگاہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ ہم ایسا نہیں سوچتے ہیں اور یہ بندرگاہیں ایک دوسری کی مکمل کرلیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چابہار اور گوادر ریل رابطے ان بندرگاہوں کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لئے بہتر جگہ مہیا کرسکتے ہیں؛ علاوہ ازیں اسلامی جمہوریہ ایران نے پاکستان کے گوادر بندرگاہ کو بجلی کی فراہمی کیلئے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

 حسینی نے کہا کہ در حقیقت اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان کی ترقی اور سلامتی کو اپنی ترقی اور سلامتی سمجھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک کی بندرگاہوں کی ترقی سے خطے میں دوطرفہ تجارت اور ترقی کے حجم میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے ایران اور پاکستان کے مابین تعاون اور سرمایہ کاری کے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ توانائی، گیس اور تیل دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی توسیع اور سرمایہ کاری کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حسینی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران توانائی کے شعبے میں بہت اچھی صلاحیت رکھتا ہے اور اس شعبے میں پاکستان کو بڑے پیمانے پر برآمدات بھی کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران سے پاکستان کو تھوڑی بہت بجلی برآمد کی جاتی ہے تا ہم تہران نے اس سے پہلے ہی پاکستان کے کچھ حصوں تک بجلی کی برآمدات بڑھانے کیلئے اپنی تیاری کا اعلان کر چکا ہے۔

ایرانی سفیر نے پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے پر 2009 میں دستخط کیا گیا اور ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود اپنے حصے کی مکمل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان کیجانب سے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کیلئے پُر امید ہے اور اگر اس منصوبے پر عمل درآمد کیا جا سکے کو باہمی تعاون کا مزید فروغ ہوگا۔

حسینی نے سیاحت، صحت اور مذہبی سیاحت سے متعلق دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ تعاون سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان میں ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اچھی صلاحتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات کا مستقبل بہت روشن ہے اور اعلی عہدیدراوں کے عزم اور عوام کی دلچسبی سے مختلف شعبوں میں ان تعلقات کو بڑھانا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 7 =