روس نے سلامتی کونسل میں ایران کیخلاف پابندیوں کے از سر نو نفاذ کا مسترد کردیا

ماسکو، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات روس کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل میں روس کی قیادت کے آغاز کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کی درخواست پر ایران کیخلاف پابندیوں کے از سر نو نفاذ کا مسترد کردیا۔

ان خیالات کا اظہار "واسیلی نبنزیا" نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ ایران کیخلاف پابندیوں کی بحالی کیلئے اسنیپ بیک میکنزم کا نفاذ نہیں ہوگا۔

روسی نمائندے نے کہا کہ ایران کیخلاف پابندیوں کی بحالی کا معاملہ کبھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نہیں اٹھایا جائے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی حکومت، ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی سے ڈھائی سال گزرنے کے بعد پھر بھی جوہری معاہدے میں شراکت دار بننے  اور اسے جوہری معاہدے کے تحت قرارداد 2231 کے میکنزم کے استعمال کرنے کے حق کا دعوی کرتی ہے۔

لہذا انہوں نے 13 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 4 پیراگراف پر مشتمل ایران کیخلاف ایک قرارداد کو پیش کی؛ امریکی قرارداد کو سلامتی کونسل میں صرف دو ووٹ مل گئے؛ ایران مخالف قرار داد پر ہونے والی ووٹنگ میں گیارہ ممالک نے حصہ نہیں لیا، دو ممالک نے اس کی حمایت جبکہ دو ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے؛ قرارداد کے حق میں امریکا کے علاوہ صرف جمہوریہ ڈومینیکن نے ووٹ ڈالا جبکہ روس اور چین نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈال کر اسے ویٹو کر دیا۔

اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے 20 اگست کو اقوام متحدہ میں اسنیپ بیک میکنزم کے تحت ایران کیخلاف سلامتی کونسل کی منسوخ کی گئی قراردادوں کے از سر نو نفاذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

نبنزیا نے مزید کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات اور تصادم کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کارگردگی پر اثر نہیں ڈالنا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =