امریکہ کثیرالجہتی جوہری مذاکرات کی میز پر واپس آسکتا ہے: ایرانی سفیر

تہران، ارنا- آسٹریا میں تعنیات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ جوہری کثیرالجہتی مذاکرات کی میز اب بھی موجود ہے اور امریکہ موجودہ اور آئندہ دونوں انتظامیہ کے تحت اس کثیر جہتی مذاکرات کی میز پر واپس آسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "عباس باقر پور" نے آسٹرین اخبار کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے جوہری معاہدے کے مستقبل سے متعلق تازہ ترین تبدیلیوں کے حوالے سے کہا کہ تمام بین الاقوامی پریشانیوں سے قطع نظر، ہمارے بین الاقوامی مسائل کا بنیادی حل "مکالمہ پر مبنی حل" ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم طبی اور سائنسی مقاصد کے لئے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے خواہاں ہیں؛ یہ فیصلہ ہر ایک ملک پر منحصر ہے، آسٹریا نے 41 سال قبل جوہری توانائی ترک کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ہم نے ایک مختلف راہ اختیار کی ہے۔

باقرپور نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم جوہری ہتھیاروں کی تلاش نہیں کررہے ہیں اس کے بجائے ہمیں قومی پروگراموں کیلئے پرامن جوہری پروگرام کی ضرورت ہے لیکن کچھ ممالک نے غلط معلومات اور جان بوجھ کر معلومات پر مبنی غیرضروری بحران پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایٹمی معاہدے کے ذریعے حل کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد امریکہ نے یکطرفہ طور پر کثیر جہتی مذاکرات کی میز کو چھوڑ دیا؛ پھر بھی کثیر جہتی مذاکرات کی میز موجود ہے اور امریکہ موجودہ اور آئندہ دونوں انتظامیہ کے تحت اس کثیر جہتی مذاکرات کی میز پر واپس آسکتا ہے۔

باقرپور نے امریکہ میں صدراتی انتخابات اور ایران کیلئے کونسے امیداور کی جیت بہتر ہے، کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم دیگر ملکوں کے اندرونی مسائل میں مداخلت نہیں کرتے ہیں تاہم بین الاقوامی تبدیلیوں کو قریب سے تعاقب کرتے ہیں۔

‏انہوں نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان حالیہ کشیدکی شے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ  ہم ان دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

باقر پور نے دنیا میں عالمیگر وبا کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بحران پر قابوپانے کیلئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 6 =