تعلقات کو معمول پر لانے سے صہیونی ریاست کے تحفظ کے احساس کو تقویت ملتی ہے: ایران

لندن،ارنا- جینوا میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے دوعرب ملکوں کیجانب سے صہیونی ریاست سے تعلقات کو معمول پر لانے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے صہیونی ریاست کے تحفظ کے احساس کو تقویت ملتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اس اقدام سے فلسطینی عوام کے حق کی پامالی ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار "اسماعیل بقائی ہامانہ" نے بدھ کے روز جینوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 45 ویں اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے فلسطین کی صورتحال کو اقوام متحدہ کے قیام کے 75 سال قبل قائم ہونے کے بعد سے انسانی حقوق کے دیرینہ امور میں سے ایک قرار دے دیا جس کی صورتحال زمان گزرنے کیساتھ ساتھ مزید ابتر ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ہتھکنڈوں سے واقف طاقت اب ایک انتہائی رنگ برنگی فوجی حکومت میں تبدیل ہو رہی ہے اور نسلی برتری کے فلسفہ کی بنیاد پر اپنے وجود کی تعریف کررہی ہے۔

ایرانی سفیر نے جنوبی افریقہ کے امن کارکن اور نسل پرستی کیخلاف تحریک کے رہنما ڈیسمونڈ توتو کے بیانات پر تبصرہ کیا جنہوں نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کیساتھ جس طرح سلوک کیا جاتا ہے ان کوجنوبی افریقہ کے نسلی اور رنگ امتیاز کی یاد دلاتا ہے لیکن یہ اس سے بھی بدتر ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ صہیونی حکومت کے ذریعے فلسطینیوں پر منظم جابرانہ مظالم اور وحشیانہ ہوگئے ہیں جب غزہ پر بمباری اور محاصرے جاری ہیں اور فلسطینی علاقوں میں نسلی صفائی، قبضہ اور مکانات کی تباہی معمول بن گئی ہے۔

بقائی ہامانی کہا کہ قابض صہیونی ریاست کیلئے بین الاقوامی قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ گولان کی اونچائیوں اور لبنانی سرزمین پر قبضہ کرتے جار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بربریت اسی وقت ختم ہوگی جب قبضہ ختم ہوجائے گا اور فلسطینیوں کا حق آزادی بحال ہوگا۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ اس وقت تک حکومتوں کا اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے کہ وہ انتہائی سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے کیلئے صہیونی حکومت کو جوابدہ ٹھہرائے جو عالمی برادری کیلئے باعث تشویش ہیں اور فلسطینیوں کیخلاف معمول بن چکے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 3 =