امریکی عوام ٹرمپ اور بائیڈن کے مباحثے کے سب سے بڑے ہارنے والے ہیں

نیویارک، ارنا- اس بات سے قطع نظر کہ کونسے امیدوار کو پہلے امریکی انتخابی مباحثے کا فاتح سمجھا جا سکتا ہے یہ کہنا ضروری ہے کہ "اس مباحثے کے سب سے بڑے ہارنے والے امریکی عوام تھے"؛ یہ سی این این کے ماہر کی ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے مابین پہلے مباحثے کی وضاحت تھی۔

تفصیلات کے مطابق ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان پہلے انتخابی مباحثے کا منگل کی رات مقامی وقت کے مطابق 21:00 کا انعقاد کیا گیا۔

سی این این کے ماہر نے مباحثے کے فورا بعد ہی کہا کہ امریکی انتخابات کی تاریخ کا یہ سب سے انتشار انگیز مباحثہ تھا؛ ٹرمپ نے بائیڈن کے بیانات میں رکاوٹ دالنے اور ان کے بیٹے پر حملے کرنے سے اس سارے مباحثے کو چھیڑدیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہتا کہ کون امیداوار نے اس مباحثے کو جیت لیا تا ہم اس مباحثے کا ایک بڑا ہارنے والا تھا اور وہ امریکی عوام تھے کیونکہ یہ مباحثہ انتہائی بُرا تھا۔

سی این این کے ایک اور ماہر نے اس مباحثے میں بائیڈن سے متعلق ٹرمپ کے سلوک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بچوں کی طرح سلوک کیا اور در حقیقت اس طرح سلوک کیا ہے جس طرح حکومت میں اپنی پالیسیوں میں ظاہر کرتے ہیں۔

سی این این میں سیاسی تجزیہ کاروں کیساتھ منعقدہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس مباحثے نے امریکی حیثیت کو برباد دی۔

ماہرین میں سے ایک نے کہا کہ ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر جھوٹ کہا۔

دوسرے ماہر نے مباحثے کے آخری سوال "کیا آپ اپنے حامیوں سے انتخابی نتائج کا احترام کرنے، تشدد کا سہارا نہ لینے کی مشورت دیتے ہیں اور خود بھی انتخابی نتائج کو قبول کرتے ہیں" سے متعلق ٹرمپ کے جواب کو تباہ کن قرار دے دیا کیونکہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی وعدہ نہیں دیا۔

سی این این کے ماہرین کا یقین ہے کہ بائیڈن کے بیانات میں بار بار مداخلت کرنے اور مباحثے کے متفقہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے میں ٹرمپ کا برتاؤ نہ صرف ان کے حریف کی توہین تھی بلکہ تمام امریکیوں کی بھی ایک واضح توہین تھی۔

ٹی وی اینکر کو پہلے انتخابی مباحثے میں مشکل کا سامنا ہوا کیونکہ ٹرمپ اکثر اپنے حریف کی بظاہر تناؤ سے پاک تقریر کے وسط میں بات کرتے ہوئے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دیتے تھے؛   اگرچہ میزبان نے بار بار متنبہ کیا کہ ہر امیدوار کو صرف وقت پر بات کرنا چاہئے، لیکن ٹرمپ جو قواعد توڑنے کے عادی ہیں، نے بحث میں اس عادت کو ترک نہیں کیا۔

مباحثے کے دوران میزبان نے بارہا امیدواروں خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حریف کے باتوں کے درمیان بات نہ کریں؛ انہوں نے کہا کہ "اگر اپنے ملک کے عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی ایک دوسرے کی باتوں میں رکاوٹ نہ بنیں۔"

اس وقت ٹرمپ نے جوابا کہا کہ لیکن بائیڈن بھی میرے باتوں کے درمیات بات کرتے ہیں تو اینکر نے کہا کہ لیکن مسٹر پرزیڈنٹ آپ زیادہ پریشانی کا سبب بن رہے ہیں۔

سی بی ایس کے مطابق ، 90 منٹ کی بحث کے دوران، ٹرمپ نے "73 بار" بائیڈن کے بیانات میں رکاوٹ ڈالی۔

اس رپورٹ کے مطابق، بائیڈن ٹرمپ کی بار بار مداخلتوں کی وجہ سے ٹرمپ کے لئے "شٹ اپ" کا لفظ استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

اس بحث کے علاوہ، ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان دو اور مباحثے ہوں گے اور ایک بحث ان دونوں امیدواروں کے نائب "مائیک پینس" اور "کامالا ہریس" کے مابین ہوگی۔

"مائیک پینس" اور "کامالا ہریس" کےدرمیان مباحثے کا اگلے ہفتے میں انعقاد کیا جائے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 1 =