ٹرمپ اور بائیڈن کے مباحثے کے حوالے سے ایرانی صدر کا بیانات

تہران، ارنا – ایرانی صدر نے ایران کے خلاف امریکی معاشی جنگ کے تسلسل اور شدت کے فروغ کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسیوں پر تنقید کی۔

یہ بات صدر روحانی نے آج بروز بدھ اپنی کابینہ کے اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے ٹرمپ اور بائیڈن کے مابین ہونے والی بحث پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات امریکی صدارتی انتخابات کیلیے 2 امیدواروں 'ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان مباحثے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان کا کرونا میں خراب انتظام ہے، بدترین بے روزگاری نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور بدامنی پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔

روحانی نے کہا کہ امریکی حکومت خارجہ پالیسی میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے اور وہ ناکام ہو چکی ہے۔ نہ صرف ایران کے معاملے میں بلکہ بحر الکاہل ، یورپ اور نفتا (Naphtha)  میں ناکام ہوئی ہے

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بہت ساری پریشانیوں اور مسائل ہیں اسی لیے امریکی حکومت ان مسائل کو امریکہ سے دور کرنے کیلیے ایران کے خلاف سازشیں اور پریشانی پیدا کرنا چاہتی ہے۔

روحانی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ نے اپنی خصمانہ، مجرمانہ اور دہشت گردی کی پالیسیوں کےساتھ ایرانی قوم اور 84 ملین افراد کا نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی صدر نے دنیا کے ساتھ تعمیری رابطہ برقرار رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قائد انقلاب نے واضح طور پر  کہا 'وسیع تر تعمیری بات چیت' ہمیں دنیا کے ساتھ تعمیری رابطہ برقرار رکھنا چاہئے ،ہم سامان درآمد اور برآمد کرتے ہیں۔

روحانی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالات بدل رہے ہیں اور بہتر ہورہے ہیں۔ آہنگی ، لسانی اور عملی اتحاد کے ساتھ ہم ان مشکلات پر قابو پالیں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 16 =