امریکی پابندیاں ایران میں کرونا کی موت کی ایک اہم وجہ ہے

نیو یارک، ارنا - امریکہ میں مقیم ایک ایرانی ماہر معاشیات نے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ اگر یہ پابندیاں نہ ہوتی تو 13 ہزار ایرانی کرونا وائرس سے ہلاک نہ ہوگئے۔

یہ بات "جواد صالحی اصفہانی" نے منگل کے روز بروکینگز انسٹی ٹیوشن تھنک ٹینک پر اپنے ایک نوٹ میں کہی۔
انہوں نے اپنے مضمون میں پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی معیشت کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے دیوالیہ پن اور تباہی کی روک تھام کے لئے اپنی معیشت کو دوبارہ کھول کردیا اسی لئے مئی کے وسط تک اموات کی تعداد میں دوبارہ اضافہ متوقع تھے۔
صالحی نے کہا کہ امریکی حکومت نے اس وبا کو منظم کرنے میں ایران کی مدد کے لئے پابندیوں میں نرمی لانے کے بجائے ان کے حجم میں اضافہ کیا ہے اور عالمی رہنماؤں ، سابق امریکی سفارتکاروں اور اقوام متحدہ کی جانب سے ان کو کم کرنے کی درخواستوں کو نظرانداز کیا ہے۔
پردے کے پیچھے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پر سوچنے کی ایک خلاصہ وال اسٹریٹ جرنل "اب ایران پر پابندیاں ختم کرنے کا وقت نہیں ہے" کے عنوان سے مارچ 2020 کے شمارے میں شائع کی گئی
ایرانی محقق نے لکھا کہ طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود ، ایران اپریل اور مئی 2020 کے درمیان کرونا سے ہونے والے یومیہ ہلاکتوں کی تعداد کو کم کرنے اور پیش قیاسی انسانی تباہی کو روکنے میں کامیاب ہوگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ نیچے دیئے گئے چارٹ میں ظاہر ہوتا ہے اسلامی جمہوریہ ایران صرف چند ہفتوں میں کرونا اموات کو 1.6 سے فی ملین سے 0.6 تک کم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ماہ تک کم رکھے گئے یہاں تک کہ معاشی اخراجات بڑھ گئے اور حکومت اپنے معاشرتی فاصلاتی اقدامات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگئی۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں اب تک لگ بھگ 500 ہزار افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے تقریبا 27 ہزار فوت ہوگئے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 5 =