ایران سات ہزار سالہ پرانی تہذیب سے سیاحتی صنعت میں موتی کی طرح چمکتا ہے

تہران، ارنا- آج مطابق 27 ستمبر سیاحت کا عالمی دن ہے اور بلاشبہ ایران کی سات ہزار سالوں پر پھیلی ہوئی پرانی تہذیب اور سیاحتی دلچسبیاں پوری دنیا میں موتی کی طرح چمکتی رہتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، 1979ء میں عالمی سیاحتی تنظیم کی جنرل اسمبلی کے تیسرے اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ 1980ء کے بعد سے 27 ستمبر کو سیاحت کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا۔

یہ دن عالمی سیاحت کی صنعت میں ایک اہم موڑ ہے اور ہر سال ایک ملک میں عالمی سیاحت کی تنظیم کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے اور ایران نے بھی 2001 میں اس اجلاس کی میزبانی کی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاحت کی صنعت ایک اہم معاشی وسائل میں سے ایک ہے اور انسانی معاشروں کی ثقافتی، معاشرتی اور معاشی ترقی میں ایک موثر عنصر ہے۔

یہ صنعت آمدنی کے ذرائع میں اضافے اور روز گار کی پیداوار کے فروغ سمیت قوموں، نسلوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب کرتی ہے اور بلا واسطہ اور بالواسطہ ممالک کے معاشی اشارے کے فروغ اور بہتری کو متاثر کرتی ہے۔

*** ایران میں سیاحتی صعنت

ایران جیسے سیاحتی مقامات کے حامل ممالک کیلئے سیاحت غیر ملکی زرمبادلہ کی کمائی کا سب سے اہم ذریعہ ہوسکتی ہے؛ بشرطیکہ اس کیلئے دور اندیشی کے ساتھ مناسب اور جامع منصوبہ بندی مرتب کی جائے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے۔

ایران میں دستیاب سہولیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ہر سال 2 سے 3 ملین غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور یہ صنعت تیل کی صنعت کے بعد ملک میں زرمبادلہ کی کمائی کیلئے سب سے اہم آپشن ہوگی۔

 ایران، سیاحتی دلچسبیوں اور خوشگوار آب و ہوا کی خصوصیات والی خوبصورت فطرت، قدیم ثقافت اور تہذیب والے افراد قدیم اور اسلامی رسم و رواج کے حامل بہت پرانے مقامات کیساتھ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے معاملے میں ایک بہت ہی غیر معمولی اور ممتاز مقام رکھتا ہے۔

*** سیاح سات ہزار سالوں پر پھیلی ہوئی ایرانی پرانی ثقافت میں مگن

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ممالکت ڈاکٹر حسن روحانی نے گزشتہ ہفتے کے دوران سیاحتی شعبوں میں منصوبوں کی افتتاحی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاح جو ایران کا دورہ کرتا ہے وہ ایران کی سات ہزار سالوں پر پھیلی ہوئی ثقافت میں مگن ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ایران کا رخ کرتے ہوئے سیاحوں کی تعداد 4 ملین سے 8 ملین تک بڑھ گئی اور اگر کرونا کی وبا نہیں پھیلی گئی تھی تو اس میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سات سالوں کے دوران ایران میں سیاحتی مقامات اور ہوٹلوں کی تعمیر میں 70 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صدر روحانی نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ کرونا وائرس پر قابو پانے سے گزشتہ کی طرح ایران کی سیاحتی صنعت میں ترقی نظر آئی گی۔

*** سیاحت کا عالمی دن؛ قوموں کے درمیان دوستی کا دن

ایرانی وزیر برائے ثقافتی ورثے، سیاحتی صنعت اور دستکاری مصنوعات کے امور نے آج عالمی یوم سیاحت کے موقع پر ایک پیغام میں کہا کہ رواں سال میں عالمی یوم سایحت کہ نعرہ "سیاحت اور دیہی علاقوں کی ترقی" ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ ایران اور دنیا کے تمام علاقوں میں سیاحت کی ترقی، یکجہتی اور قومی مفادات کے فروغ کا باعث بنے گی۔

لہذا ، ہمیں یہ کہنا ضروری ہے کہ عالمی یوم سیاحت بھی اقوام عالم کے مابین دوستی کا دن ہے وہ دن جس میں تنازعہ کی جگہ تفہیم کا راستہ فراہم کیا جاتا ہے اور سیاحت کے فلسفے کو سمجھنے سے ہم دنیا کی بہتر تفہیم حاصل کرتے ہیں۔

***جوہری معاہدے کے بعد ایران کا رخ کرنے والے سیاحوں میں اضافہ

ایران، جس نے سیاحت کی صنعت کے میدان میں غیر منصفانہ پابندیوں کی وجہ سے بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جوہری معاہدے کے مذاکرات کے آغاز کے بعد اپنی سیاحت کی صنعت کو بحال کرنے لگا کیونکہ مغربی ممالک اپنی سیاحت کی فہرست میں ایران کا ذکر نہیں کرتے تھے لیکن جوہری معاہدے کے مذاکرات کے بعد حالات بدل گئے اور 2011 سے 2017 تک ایران کی سیر کرنے والے سیاحوں کی تعداد 5۔2 ملین افراد تک بڑھ گئی۔

لہذا ، ایران کے مثبت امیج دکھانے کی طرف گامزن ہونا، سفری محرکات میں اضافہ، نئی منڈیوں اور متنوع بازاروں خاص طور پر یورپی منڈیوں کا قیام، ہوٹل مینجمنٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، ویزا کے وقت کو بڑھانا، ای ویزا جاری کرنا اور غیر ملکی سیاحوں میں اضافہ کرنا یہ سب کے سب وہ اثرات تھے جو جوہری معاہدے نے ایران کی سیاحتی صنعت پر مرتب کیے۔

ایران جیسا ملک جو قدرتی، قدیم ، ثقافتی اور دیگر سیاحتی مقامات سے بھر پور ہے، میں سیاحت کی صنعت کے بنیادی ڈھانچوں کا فروغ دینا ہوگا۔

چونکہ ایران جنگ کے بعد کی مشکل صورتحال اور پابندیوں کے سبب معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے لہذا اسے تیل مصنوعات کی آمدنی پر انحصار کرنے کے بجائے کسی اور متبادل صنعت کی اشد ضرورت ہے اور اس حوالے سے سیاحتی صنعت سب سے بہتر اپشن ہوگی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ ایک طرف ایرانو فوبیا پالیسیوں کے خاتمے اور دوسری طرف کرونا بحران کے خاتمے کے بعد، ایران کے بے مثال سیاحتی مقامات ایک بار پھر غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن جائیں گے اور مختلف ممالک کے سیاح بحفاظت سے ایران کا سفر کریں گے اور ایران کی سات سالہ پرای تہذیب سے حظ اٹھائیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 14 =