22 ستمبر، 2020 1:01 PM
Journalist ID: 2392
News Code: 84050174
0 Persons
عالمی جوہری ادارے کی جنرل اسمبلی: امریکی تنہائی کا منظر

لندن، ارنا – عالمی جوہری ادارے کی جنرل اسمبلی کے پہلے دن کا 21 ستمبر کو آسٹریا کے دارالحکومت میں خاتمہ کیا گیا جس کے ساتھ ہی امریکہ شرکاء کے جوہری معاہدے کے تحفظ کے اصرار، اسلامی جمہوریہ ایران اور اس ادارے کے درمیان حفاظتی امور پر حالیہ معاہدے کے خیرمقدم کے سامنے اس معاہدے کے خلاف دعووں کے دہرانے کے ساتھ ایک بار پھر الگ تھلگ ہوگیا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ حالیہ حفاظت کے معاہدوں پر عمل درآمد پر فخر کرکے اسے اپنے سربراہی دوران کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
انہوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں اس امید کا اظہار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدے سے دونوں فریقین کے درمیان تعاون اور اعتماد کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے آئی اے ای اے کے ممبر ممالک کے 171 نمائندوں ، سفیروں اور سینئر عہدیداروں کی موجودگی میں کہا کہ اس بین الاقوامی ادارہ آئی اے ای اے بورڈ کے تحت ایران کے جوہری ذمہ داریوں کے نفاذ پر باقاعدگی سے بورڈ آف گورنرز کو رپورٹ کرتا ہے۔
ان کے بعد سویڈش کے وزیر اعظم اسٹفن لوفن جس اجلاس میں ورچوئل کے طورپر شریک تھے، نے کہا کہ کہ اسٹاک ہوم ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کی کوششوں کی فعال حمایت کرتا ہے۔
فرانسیسی جوہری توانائی کمیشن کے نمائندے اور چیئرمین فرانسوا ژاک نے اپنے آن لائن خطاب میں ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان حفاظتی اقدامات سے متعلق حالیہ معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایڈیشنل پروٹوکول کے تحت آئی اے ای اے کے انسپکٹرز تک رسائی حاصل کرنے کو قائم کیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے بار بار اعلان کردیا کہ اگر جوہری معاہدے میں باقی دوسرے اراکین معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کریں تو ہم اس معاہدے کی ذمہ داریوں کو کم کرنے کے اقدامات سے واپس آئیں گے۔
امریکی نمائندے نے گزشتہ روز اس اجلاس میں ایران کی خطے میں دہشت گردی کی حمایت اور عدم استحکام پیدا کرنے کے دعوے کی تکرار کے ساتھ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر آئی اے ای اے کی نگرانی میں اضافہ اور جوہری معاہدے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اس اجلاس میں کہا  کہ جوہری معاہدے کو برقرار رکھنا عالمی برادری کے تمام ممبروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے لہذا اس معاہدے کو تب ہی برقرار رکھا جائے گا جب اس میں شامل تمام فریقوں کے ذریعہ اس کی دفعات کو متوازن طریقے سے نافذ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق، 64ویں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا گزشتہ روز ویانا کے بین الاقوامی مرکز میں  صحت کے طریقہ کار کے مطابق آغاز کیا گیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 7 =