امریکہ کے پابندیوں کی بحالی کیلئے ٹرگر میکانزم کے استعمال کی کوئی عالمی قانونی حیثیت نہیں ہے: ایران

تہران، ارنا – ایرانی ماہر برائے بین الاقوامی امور نے ایران پر عائد پابندیوں کی بحالی کے امریکی اقدام کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا ہے کہ ٹرمپ اور پمپیو کے جوہری معاہدے کے تنازعہ کے حل کے طریقہ کار کو استعمال کرنے کے لئے بیانات اور اقدامات ایک ناراض شخص کو سیٹی مارنے کے مترادف ہیں جو اپنی راحت دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بات "حسن بہشتی پور" نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے امریکہ کے تنازعات کے حل کے میکانزم کو استعمال کرنے کے لئے درپیش قانونی چیلنج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی لحاظ سے امریکہ ہی اس میکانزم کو استعمال نہیں کرسکتا کیونکہ سلامتی کونسل کے اجلاس کا انعقاد نہیں کیا گیاہے اور اراکین بھی پہلے ہی اس طرح کے اقدامات کی مخالفت کر چکے ہیں اور اس طرح کے اقدامات قرارداد 2231 کے آرٹیکل 10 اور 11 کے منافی ہے۔
بہشتی پور نے کہا کہ ٹرگر میکانزم کے استعمال کے لئے امریکی اقدام اسی وقت جائز ہوگا جب سلامتی کونسل کا اجلاس جوہری معاہدہ اور قرارداد 2231 میں مذکور تفصیلی تیاریوں کے ساتھ عمل میں لائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ تیاریاں نہیں کی گئیں ہیں لہذا امریکی اقدام کا کوئی بین الاقوامی جواز نہیں ہے چاہے غنڈہ گری کے ساتھ ہی انجام دیا جائے جیسا اس نے 2018 سے دنیا پر اس طرح کی طاقت مسلط کردی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے تجارتی شراکت داروں پر پابندیوں عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے نئے اقدامات سے معاشی طور پر کچھ نیا نہیں ہوگا، ٹرمپ انتظامیہ اس پروپیگنڈہ سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی اور کہتی ہے کہ اس نے قراردادیں واپس کردی ہیں ، لیکن جب دوسرے ممالک نے اس پر دستخط نہیں کیے ہیں تو ، امریکہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں عملی طور پر ناکام ہوجاتا ہے۔
انہوں نے یورپی یونین کو جوہری معاہدے کے نفاذ کا ایک مضبوط حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی یکطرفہ پابندیوں کے آغاز سے ہی ، یورپی یونین نے اعلان کردیا کہ معاشی طور پر کچھ نہیں کرے گی کیونکہ یورپی کمپنیاں حکومتوں سے آزاد ہیں مگر سیاسی اور سفارتی طور پر امریکی یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی مخالفت کرتی ہیں کیونکہ جوہری معاہدے کو عدم پھیلاؤ اور یورپی استحکام اور سلامتی کی سمت میں ایک اہم معاہدہ سمجھی جاتی ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 4 =