21 ستمبر، 2020 4:02 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84049089
0 Persons
ہر سات منٹ میں ایک ایرانی الزائمر کا شکار ہوتا ہے

تہران، ارنا- ایران الزائمر ایسوسی ایشن کی خاتون سربراہ نے الزائمر کو دنیا کی پانچ مہلک بیماریوں میں سے ایک قرار دے دیا اور کہا کہ ہرسات منٹ میں ایک ایرانی الزائمر کا شکار ہوجاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "معصومہ صالحی" نے پیر کے روز الزائمر کے عالمی دن (21 ستمبر) کے موقع پر ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں لگ بھگ 750 ہزار افراد الزائمر کے شکار ہیں اور الڈر آبادی بڑھنے سے اس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

صالحی نے کہا کہ ہمیں الزائمر کے بارے میں بغیر شرم سے بات کرنی چاہئے کیونکہ یہ خاموش مرض جو ڈیمینشیا کیساتھ وابستہ ہے ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور بڑھتی ہوئی افسردگی کے علاوہ ، ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر اعلی طبی اخراجات بھی عائد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس بیماری کے بارے میں وسیع پیمانے پر معلومات موجود ہو تو جلد ہی اس مرض میں مبتلا افراد کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کی تشخیص جلد ہوجائے گی اور جیسا کہ ان کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی اور الزائمر کے مرض میں مبتلا افراد کی شرح میں 40 فیصد کمی واقع ہوگی۔

 واضح رہے کہ الزائمر ایسا مرض ہے جس کا ابھی تک علاج دریافت نہیں کیا جاسکا ہے اور یہ آہستہ آہستہ مریض کو موت کے منہ کی جانب دھکیل دیتا ہے۔

یہ مرض دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے، یاداشت ختم ہوجاتی ہے اور ایک خاص قسم کا پروٹین اسے متحرک کرنے کا باعث بنتا ہے۔

اکثر یہ معمر افراد کو شکار بناتا ہے مگر کسی بھی عمر کے افراد کو یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے اور جیسا بتایا جاچکا ہے کہ یہ ناقابل علاج ہے تو اس کو ابتدائی مرحلے میں پکڑ لینا اس سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔

علاج کو بالکل ابتدا میں پکڑلیا جائے تو اس پروٹین ایمیلوئیڈ بیٹا کی سطح کو ادویات کے ذریعے کم کرنا ممکن ہوتا ہے اور عام طور پر یہ پروٹین مرض کے دس سال قبل ہی بڑھنے لگتا ہے اور اس کی علامات اکثر افراد پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 0 =