ایران- عراق کی جنگ کے اختتام پر قرار داد 598 کو قبول کرنا ایک عقلمند اور دانشمندانہ اقدام تھا: ایرانی قائد انقلاب

تہران، ارنا - رہبر انقلاب اسلامی نے عراق -ایران جنگ کے اختتام پر قرارداد 598 کو قبول کرنا ایک عقلمند اور دانشمندانہ اقدام تھا۔

ان خیالات کا اظہار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای آج بروز پیر دفاع مقدس کے آغاز پر دس لاکھ جنگی تجربہ کاروں کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں ایک ویڈیو کانفرنس میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  رہبر معظم انقلاب اسلامی کا خطاب ٹی وی سے براہ راست نشر کیا گیا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے خطاب سے پہلے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے قائد انقلاب کی خدمت میں دفاع مقدس کے پروگراموں ، اقدامات اور کارناموں کے حوالےسے ایک رپورٹ پیش کی۔

انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان جنگ کےاختتام پر قرارداد598 کے قبول کرنے،جس کو انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی (رح) زہر کے پیالے کے پینے کےمترادف سمجھتےتھے، کو ایک سمجھداری اور دانشمندانہ اقدام قراردیا۔

یاد رہے کہ ایران کے مقدس دفاع کے اقدار اور آثار کے تحفظ کی فاؤنڈیشن کے سربراہ جنرل بہمن کارگر  نےحالیہ دنوں میں کہا کہ ہفتے دفاع  مقدس کے پروگراموں کے بارے میں کہا کہ اس سال تہران اور بندر عباس میں پریڈ کا انعقاد نہیں کیا جائے گا ، لیکن آٹھ صوبوں میں اس سے متعلقہ آٹھ دفاعی میوزیم کا افتتاح کیا جائے گا۔

حضرت آیت اللہ خامنہ اینے فرمایا کہ مقدس دفاع ایرانی قوم کا ایک انتہائی عقلی واقعہ تھا، لیکن کچھ حقائق کو مسخ کرنے کے ساتھ دفاع مقدس پر لاپرواہی کا الزام لگایا گیا ہے، جو قطعی طور پر ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقدس دفاع نے ہمارے انسانی سرمائے کو بڑھایا اس کی ایک مثال شہید سلیمانی ہے، جنھوں نے سفارت کاری اور بین الاقوامی امور کے شعبے اور خطے میں حیرت انگیز سرگرمی کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بھی اربعین حسینی کے پیدل مارچ کے بارے میں کہا ہے کہ یہ مسئلہ کرونا کے قومی ہیڈ کوارٹر کے عہدیداران کی صوابدید پر ہے جو اب تک ہیڈ کوارٹر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عازمین کو عراق نہیں جانا چاہئے، اور سب کو اس کی ہدایات کی اطاعت کرنی چاہئے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 0 =