موجودہ امریکی حکومت کی پالیسی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے لئے ایک بے مثال خطرہ ہے

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ نے موجودہ امریکی حکومت کے نقطہ نظر کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے لئے ایک بے مثال خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ براہ راست یا اپنے حمایت یافتہ ممالک کے ساتھ ان پابندیوں کے لیے کوئی اقدام اٹھائے تو وہ خود تمام خطرناک نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں کی واپسی کے لیے امریکی حکومت کی بے نتیجہ کوششوں کے رد عمل پر ایک بیان میں کہاکہ امریکہ نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی واپسی کے لیے جھوٹا دعوی کیا ہے جبکہ سلامتی کونسل نے بنیادی طور پر جوہری معاہدے کے غیر ممبر کی حیثیت سےایران کے خلاف پابندیوں کی بحالی کے لیے امریکی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران کیخلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں کی واپسی کے لیے اپنا دعوی بے بنیاد اور ناجائز ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے ، اور اسی وجہ سے  وہ اپنے طریقے سے ممالک کو دھمکی دیتا ہے جو یہ بہترین ثبوت ہے کہ امریکہ نے سلامتی کونسل میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔

اس بیان کے اختتام میں آیا ہے کہ اگر امریکہ براہ راست یا اپنے حمایت یافتہ ممالک کے ساتھ ان پابندیوں کے لیے کوئی اقدام اٹھائے تو وہ خود تمام خطرناک نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔

اس بیان میں آیا ہے کہ 2018 میں جب امریکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جامع جوائنٹ ایکشن پلان سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہوگیاانہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے یا گرنے کے ایک چوراہے پر ڈالے۔ لیکن آج امریکہ جو اسلامی جمہوریہ ایران کےسیکورٹی منصوبے کو آگے بڑھانے میں پہلے سے کہیں زیادہ تنہا ہےاور اب انہوں نے ایران کے خلاف اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکامی سے مایوس ہوکر عالمی برادری سے غنڈہ گردی اور بلیک میلنگ کا سہارا لیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 2 =