امریکہ کا پابندیوں کی بحالی کے دعوے کا کوئی قانونی اثر نہیں پڑتا ہے: ایران

نیویارک، ارنا – اقوام متحدہ میں ایرانی مستقل سفیر اور نمائندہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کا قرارداد 2231 کی ختم ہونے والی پابندیوں کی بحالی کے دعوے کا کوئی قانونی اثر نہیں پڑا اور غیر موثر ہے۔

یہ بات "مجید تخت روانچی" نے ہفتہ کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور اس ادارے کے قومی سلامتی کے سربراہ کے نام ایک خط میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائی کے جواب میں ، نہ صرف سلامتی کونسل کے کسی بھی رکن نے پچھلی پابندیوں کی واپسی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ سلامتی کونسل کے سربراہ کو انفرادی یا مشترکہ خطوط کے ذریعہ تنظیم کے 13 ارکان نے امریکی خط کے قانونی جواز اور قبولیت کی واضح طور پر تردید کی۔
تخت روانچی نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ممبران نے قرارداد 2231 جو صرف جوہری معاہدے کے رکن سلامتی کونسل کی ماضی پابندیوں کی بحالی کا حق ہے، کی مبنی پر  اعلان کیا کہ اب اس معاہدے کا ممبر نہیں لہذا اس کے خط کا موجودہ یا مستقبل کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔
انہوں نے 20 اگست کو یورپی یونین کے اعلی نمائندے برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی اور جوہری معاہدے کے کوآرڈینیٹر کے ایک خط کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ہم نے بار بار کہا کہ امریکہ یکطرفہ طور پر اس عالمی معاہدے سے دستبردار ہوچکا ہے جس نے اس کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا ہے لہذا اسے جوہری معاہدے کی رکن ریاست نہیں سمجھا جاسکتا اور وہ سلامتی کونسل کی ممکنہ پابندیوں کو بحال نہیں کرسکتا ہے۔
انہوں نے 1 ستمبر کو جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے باقی ممبروں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ اس معاہدے کا ممبر نہیں ہے اور اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیوں کو بحال نہیں کرسکتا ہے۔
انہون نے اس خط میں جسے سلامتی کونسل کی دستاویز کے طور پر اندراج اور شائع کیا جانا ہے، کہا کہ امریکہ کا بیان کردہ مقصد جوہری معاہدے کا مکمل خاتمہ ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے من مانی یک طرفہ تشریحات اور ارد قانونی دلائل کے ذریعہ حکمت عملی قانونی پیچیدگی پیدا کرنا ہے۔
ایرانی مستقل مندوب نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو یقین ہے کہ سلامتی کونسل کے ممبران ایک بار پھر کونسل کو ناجائز استعمال کرنے اور اس کے اختیارات اور ساکھ کو مجروح کرنے کی امریکی کوششوں کی مخالفت کریں گے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 8 =