ایرانی ڈاکٹر کو اعضا کی پیوند کاری کی عالمی ایسوسی ایشن کے ایوارڈ سے نوازا گیا

 شیراز، ارنا- ایرانی ڈاکٹر اور سرجر "سید ملک حسینی" کو اعضا کی پیوند کاری کی عالمی ایسوسی ایشن کے 2020 کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر ملک حسینی نے ایک زندہ شخص سے دوسرے زندہ شخص میں ایران میں جگر کا پہلا ٹرانسپلانٹ کیا اور اسے طبی انسائیکلوپیڈیا میں ایران میں جگر کی پیوند کاری کے باپ کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔

اعضا کی پیوند کاری کی بین الاقوامی کانگریس ہرسال ان افراد کو recognition awards دیتی ہے جنھوں نے دنیا بھر میں اعضا کی پیوند کاری پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے۔

ٹرانسپلانٹ ایسوسی ایشن (ٹی ٹی ایس) کی 28 ویں انٹرنیشنل کانگریس کا 14 ستمبر سے آن لائن طور پر تین دنوں کیلئے انعقاد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ملک حسینی نے 1987 میں تہران کی شہید بہشتی یونیورسٹی میں گردے کی پیوند کاری اور عروقی سرجری کا ضمنی خصوصی کورس مکمل کیا۔

وہ 1990 میں جگر کی پیوند کاری کے ضمنی خصوصی کورس کیلئے امریکہ چلے گئے اور مئی 1993 میں انہوں نے ایران اور مشرق وسطی میں پہلے جگر کی پیوند کاری کی اور ایران میں جگر کی پیوند کاری کا باپ بن گیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 12 =