ایران کو پھر چین سے اتپریریک کی درآمد کی ضرورت نہیں ہوگی

کرمانشاہ، ارنا- ایرانی شمالی صوبے کرمانشاہ میں پولیمر پیٹروکیمیکل سے متعلق ایک نئے یونٹ کے نفاذ کیساتھ ملک کو اب چینی اتپریرک درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار کرمانشاہ کے جنرل گورنر "پہوشنگ بازوند" نے نائب ایرانی صدر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی "سورنا ستاری" کیساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے ملک میں پیٹروکیمیکل صنعت میں ضروری اتپریرک کو چین سے درآمد کی جاتی تھی تا ہم کرمانشاہ میں پولیمر پیٹروکیمیل کے نئے یونٹ کے نفاذ کیساتھ ان کو ملک ہی کے اندر تیار کریں گے۔

بازوند کا کہنا ہے کہ اس پروڈکشن یونٹ کی تعمیر سے نہ صرف ملک کو اشیا کی درآمد کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ روزگار اور معیشت کی ترقی بھی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس پروڈکشن یونٹ کا قیام پی ایچ ڈی طلباء کے ایک گروپ کے زیر اہتمام میں ہوگا جو انتہائی قابل قدر اور بہادارانہ اقدام ہے۔

کرمانشاہ کے گورنر جنرل نے ملک میں علم پر مبنی کمپینوں کی سرگرمی کو پابندیوں کیخلاف مقابلہ کرنے کا ایک اہم اقدام قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی اس صوبے میں ادویات اور صنعتی پرزے تیار کرنے والی علم پر مبنی کمپنیاں سرگرم عمل ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبے کرمانشاہ میں پولیمر پیٹروکیمیکل کے کمپلیکس میں اتپریریک کے پیداوار کے یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کی افتتاحی تقریب میں نائب ایرانی صدر برائے سانس اور ٹیکنالوجی بھی شریک تھے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 4 =