ایرانی پارلیمنٹ میں امریکی معاندانہ اقدامات کیخلاف کاروائی پر بل پیش

تہران، ارنا- ایرانی پارلیمنٹ میں قائم کمیشن برائے قومی سلامتی کے سربراہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ایران مخالف امریکی خصمانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے بل پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے مطابق اگر امریکہ ایران کیخلاف اسنیپ بیک میکنزم کا نفاذ کرے تو ایران اس کے رد عمل میں مناسب کاروائی جیسے جوہری وعدوں میں مزید کمی کرے گی۔

"مجتبی ذوالنوری" نے یورپ اور امریکہ کیجانب سے اسنیپ بیک میکنزم کے نفاذ سے متعلق امریکی وزیر خارجہ "مائیک پمپئو" کے حالیہ بیانات کے رد عمل کہا کہ امریکی حکام کا کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق وہ ایسا اقدام نہیں اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کو ایرانی اسلحے کیخلاف پابندی میں توسیع دینے یا کہ اسنیپ بیک میکنزم کو نفاذ کرنے کا ارادہ ہے تو اسے جاننا ہوگا کہ ہم ان کے اقدامات کا سختی سے جواب دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنمٹ میں پیش کردہ منصوبے کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران اپنی پُرامن جوہری سرگرمیوں کیلئے کسی بھی سطح پر یورنیم کی افزودگی کر سکتا ہے اور 90 ہزار swu تک جوہری ایندھن بھی تیار کرسکتا ہے اور کسی بھی مقدار میں بھاری پانی پیدا کرکے فروخت کرسکتا ہے۔

 ذوالنوری نے کہا کہ ہم ضرورت کے مطابق سینٹرفیوجز کی تعمیر، انسٹال اور چالو کرنے کے بھی اہل ہوں گے اور ایڈیشنل پروٹوکول کا نفاذ روکیں گے جسے ہم نے رضاکارانہ طور پر جوہری معاہدے کی خاطر قبول کیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 2 =