یوکرائنی طیارے کے معاملے پر کینیڈین عدلیہ کو مقدمہ چلانے کا کوئی اختیار نہیں ہے: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ نے ایران میں مارگرائے گئے یوکرائنی طیارے کے معاملے پر کینیڈین عدلیہ کیجانب سے مقدمہ چلانے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرلیا۔

"سعید خطیب زادہ" نے کہا کہ ہمیں ذرائع ابلاغ اور میڈیا میں کینیڈا کیجانب سے یوکرائنی طیارے سے متعلق ایرانی محکمہ خارجہ کو شکایت درج کروانے کا اطلاع ملی؛ ظاہر ہے ہم نے نہ ایسی کوئی شکایت وصول کی ہے اور نہ ہی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چاہے اس شائع شدہ رپورٹ درست ہو یا نہیں؛ ہر وہ شخص جو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ کینیڈا کی عدالت کو اس کے دائرہ اختیار سے باہر واقعات سے متعلق مقدمہ چلانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ اس معاملے کا یوکرائنی حکومت کیساتھ مذاکرات سمیت ایک ہی وقت میں ایران کے اندر عدالتی کارروائی میں محتاط اور سنجیدگی سے تعاقب کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کی حکومت کے سلسلے میں اس معاملے کو ایران نے قبول کردہ بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنوں کے فریم ورک کے اندر ہی بات چیت کی ہے اور یوکرائن کا ایک وفد جلد ہی ان مذاکرات کو جاری رکھنے کیلئے ایران کا دورہ کرے گا۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ ملک کے اندر بھی متعلقہ عدلیوں کیجانب سے اس معاملے کا تعاقب کیا جاتا ہے اور اگر کینیڈین حکومت کو اس حادثے کے لواحقین کی مدد کرنی ہے تو اسے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے دور رہنا چاہیے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 8 جنوری 2020ء کو ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ختم ہونے کے کچھ گھنٹے بعد یوکرین کا طیارہ ایران کے امام خمینی ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار 167 مسافر اور 9 عملے جاں بحق ہوگئے تھے۔

ایرانی مسلح افواج اندرونی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ میزائل انسانی غلطی کی وجہ سے فائر ہوا جس کے نتیجے میں یوکرائنی طیارہ تباہ ہوا، اور معصوم لوگ جاں بحق ہوگئے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 5 =