عرب برادری کی خود ساختہ کمیٹی کے اشتعال انگیز بیان پر ایران کا رد عمل

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے خطے کے کچھ ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ کھوکھلے پن بیانات دینے اور امریکہ اور صیہونی حکومت کے مفادات کی خدمت کے بجائے خطے کے خطرے کی اصل جڑ یعنی صیہونی ریاست کا مقابلہ کرنے پر توجہ دیں۔

"سعید خطیب زادہ" نے عرب برادری کی خودساختہ کمیٹی کے اشتعال انگیز بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کے غضبناک بیانات کو ایرانوفوبیا کے شیطانی دائرے میں اقدامات اٹھانے اور ناجائز صہیونی حکومت کو قانونی حیثیت دینے کا اقدام قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح بے بنیاد الزامات ان ممالک کیجانب سے کیے گئے ہیں جنہوں نے صیہونی حکومت کیساتھ تعلقات استوار کرنے میں اسٹریٹجک غلطی کی ہے اور اب ہچکچاتے ہوئے اپنے اس غطلی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایرانی ترجمان نے کہا علاقے میں القدس کیخلاف جارحیت کرنے والوں کا داخلہ، بحرینی عوام کی طرف سے پرامن مظاہروں کی دباؤ،عراق اور شام میں داعش دہشت گردوں اور مجرموں کی مکمل حمایت اور سعودی اتحاد کے دیوالیہ پن کے ذریعے مظلوم یمنی عوام کے خلاف وحشیانہ جنگ کا تسلسل وہ کشیدہ اقادمات ہیں جن میں یہ ممالک ملوث ہیں۔

خطیب زادہ نے تین ایرانی جزیرے ابوموسی، تنب بزرگ اور تنب کوچک سے متعلق بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے قومی سالیمت کے فریم ورک کے اندر اقدامات اٹھائے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس حوالے سے دوسروں کی مداخلت مسترد ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جنہوں نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی سازشوں پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور صہیونی حکومت کیساتھ اپنے تعلقات کا واضح طور پر اعلان کیا ہے اور القدس کی آزادی کے ارمان سے غداری کی ہے ان کو فلسطین اور لبنان میں مزاحمت سے متعلق ایران کی اعزازی حمایت پر سوال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 9 =