10 ستمبر، 2020 11:12 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84034529
0 Persons
یورپ کو امریکی معاشی دہشتگردی کا مسترد کرنا ہوگا: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں تین یورپی ملکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جوہری معاہدے کے بھر پور نفاذ کے خواہاں ہیں تو ان کو امریکی دہشتگردی کا مسترد کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز جمعرات کو ایک توئٹر پیغام میں کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسٹرٹیجک اور مذہبی وجوہات کی بناپر جوہری ہتیھاروں کے استعمال کا مسترد کرتا ہے جو ہر کسی سمجھوتے سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔

ظریف نے کہا کہ لیکن اگر تین یورپی ممالک اور یورپی یونین جوہری معاہدے کے بھرپور نفاذ کے خواہاں ہیں تو ان کو امریکی دہشتگردی کا مسترد کرنا ہوگا جیسا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی تباہ کن درخواست کا مسترد کردیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے لندن میں منعقدہ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران ایران کیخلاف پابندیوں کے سر نو نفاذ کیلئے امریکی کوششوں کا مسترد کردیا۔

منعقدہ اس اجلاس میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ بھی شریک تھے۔

 بات قابل ذکر ہے کہ امریکی حکومت، ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی سے ڈھائی سال گزرنے کے بعد پھر بھی جوہری معاہدے میں شراکت دار بننے  اور اسے جوہری معاہدے کے تحت قرارداد 2231 کے میکنزم کے استعمال کرنے کے حق کا دعوی کرتی ہے۔

لہذا انہوں نے 13 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 4 پیراگراف پر مشتمل ایران کیخلاف ایک قرارداد کو پیش کی؛ امریکی قرارداد کو سلامتی کونسل میں صرف دو ووٹ مل گئے؛ ایران مخالف قرار داد پر ہونے والی ووٹنگ میں گیارہ ممالک نے حصہ نہیں لیا، دو ممالک نے اس کی حمایت جبکہ دو ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے؛ قرارداد کے حق میں امریکا کے علاوہ صرف جمہوریہ ڈومینیکن نے ووٹ ڈالا جبکہ روس اور چین نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈال کر اسے ویٹو کر دیا۔

اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے 20 اگست کو اقوام متحدہ میں اسنیپ بیک میکنزم کے تحت ایران کیخلاف سلامتی کونسل کی منسوخ کی گئی قراردادوں کے از سر نو نفاذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 5 =