سازشوں پر قابو پانے کیلئے ایران اور ترکی کے تعاون بڑھانے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے: صدر روحانی

 تہران، ارنا-  صدر روحانی نے ایران اور ترکی کی مشترکہ سرحدوں کو دوستی کی سرحدیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحیثیت خطے کے دو اہم طاقتور ملک کے ایران اور ترکی دشمن عناصر کی سازشوں کے زد میں ہیں لہذا ان سازشوں پر قابو پانے کیلئے باہمی تعاون میں اضافے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے منگل کے روز ایران اور ترکی کے درمیان اسٹرٹیجک تعاون سے متعلق چھٹے اجلاس کے دوران اپنے ترک ہم منصب کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ترکی میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کیساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے  ان کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کرتے ہوئے اللہ رب العزت سے ایران اور ترکی سمیت پوری دنیا کو اس عالمگیر وبا پر قابو پانے کیلئے مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔

صدر روحانی نے ایران اور ترکی کے درمیان تاریخی دوستی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ثقافتی اشتراکات، باہمی احترام و نیز حسن ہمسایگی پر مبنی ہیں جن سے دونوں ملکوں کے مفادات سمیت خطے کے مفادات کی فراہمی ہوگی۔

انہوں نے دونوں ملکوں کی سرحدوں کو امن اور دوستی کی سرحدیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے خاص طور پچھلے 7 سالوں کے دوران باہمی اور علاقائی تعاون میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ ایران اور ترکی، مشرق وسطی کے حساس علاقے میں واقع ہیں؛ بحیثیت خطے کے دو اہم طاقتور ملک کے ایران اور ترکی  دشمن عناصر کی سازشوں کے زد میں ہیں لہذا ان سازشوں پر قابو پانے کیلئے باہمی تعاون میں اضافے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ آج کے اجلاس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعمیری مفاہمت ہوگی جس سے باہمی تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =