8 ستمبر، 2020 11:11 AM
Journalist ID: 2393
News Code: 84031149
0 Persons
شنگھائی تعاون تنظیم اور ایران نامی ایک گمشدہ لنک

تہران، ارنا - شنگھائی تعاون تنظیم ایشیاء میں علاقائی کنورجنسی کی علامت ہے جو ایران کی مستقل رکنیت اور ایشیا میں اس کو منفرد جیو اسٹریٹجک اور جیو اکنامک کی پوزیشن ہے، کے بغیر اس تنظیم کے حلقے مکمل نہیں ہوں گے

 شنگھائی تعاون تنظیم ایشیاء میں علاقائی کنورجنسی کی علامت ہے جو ایران کی مستقل رکنیت اور ایشیا میں اس کو منفرد جیو اسٹریٹجک اور جیو اکنامک کی پوزیشن ہے، کے بغیر اس تنظیم کے حلقے مکمل نہیں ہوں گے

ایران تقریبا 15 سالوں سے اس تنظیم کا مبصر رکن ہے لیکن سرکاری درخواست کے باوجود اس کی مستقل رکنیت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔
شنگھائی تنظیم کا جغرافیائی رقبہ 60 ملین مربع کلومیٹر ہے اور اس کی مجموعی آبادی 3 ارب افراد پر مشتمل ہے۔ یعنی  یہ دنیا کے رقبے اور آبادی کا ایک تہائی حصے پر محیط ہے اور اس کی سرکاری زبانیں چینی اور روسی ہیں۔

اگرچہ عملی طور پر  شنگھائی تعاون تنظیم ایک کھلی علاقائی تنظیم ہے جو دوسرے ممالک کی رکنیت کا خیرمقدم کرتی ہے۔ لیکن موجودہ ممبروں کے مختلف مواقف نےاس تنظیم میں ایران جیسے ممالک کی شمولیت سے روک دیا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ممبر ممالک میں جغرافیائی حدود اور نمایان رہائش پذیر آبادی، سطحِ زمین و اور زیرزمین ذخائر اور صارف مارکیٹ کے لحاظ سے ممبروں کے لئے معاشی طور پر ناقابل تردید صلاحیت ہے۔

یہ تنظیم نیٹو کے حریف کی حیثیت سے بین الاقوامی تعلقات میں مغرب خصوصا امریکہ کی یکطرفہ پن کا خاتمہ کرسکتی ہے۔

ایران کئی سالوں سے اس تنظیم کا مبصر رکن ہے لیکن ابھی تک مستقل رکن نہیں بن سکا ہے۔ تاہم چین اور روس جیسے ممالک اس تنظیم میں دو سب سے بڑی طاقتوں کی حیثیت سے مشرق وسطی اور ایشیاء میں ایران کی خصوصی اور انوکھی پوزیشن کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔

ایشیاء اور مشرق وسطی کے جغرافیہ پر نظر ڈالنے سے ایران کی منفرد جغرافیائی سیاسی پوزیشن کا پتہ چلتا ہے۔

ایشیاء کی بیشتر جغرافیائی سیاسی تقسیم میں ایران موجود ہے۔ مشرق وسطی کے ممالک کا رکن ہے۔ خلیج فارس کے ممالک کا رکن ہے۔ بحیرہ کسپین کیسپیئن کے ساحلی ممالک میں سے ایک رکن ہے اور وسطی ایشیا سے منسلک ہے ، اور یہ جنوب مغربی ایشیاء کا ایک حصہ ہے۔

اس کے علاوہ ، تیل اور گیس کے ذخائر کے معاملے میں ایران دنیا کے ایک بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور 80 ملین سے زائد آبادی کے ساتھ خطے کے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ اس نقطہ نظر سے اس کی جغرافیائی سیاسی حیثیت کے علاوہ ، معاشی صلاحیت کے ساتھ اس کی ایک جیو اکنامک پوزیشن بھی ہے۔

لہذا ، شنگھائی تنظیم میں ایران کی رکنیت ایک جیت – جیت میچ ہے۔ کیونکہ اس تنظیم میں شمولیت ایران کے لیے فائدہ مند ہوگا اور اس کے علاوہ ایران اپنی منفرد جیو اسٹریٹجک اور جیو اکنامک کی پوزیشن کے ساتھ اس تنظیم کی طاقت پر نمایان اثر پڑ سکتا ہے۔اور یہ ایران کی رکنیت کے لیے مغرب کی مخالفت کے ایک وجوہات میں سے ایک ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شنگہائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس 9 اور 10 ستمبر ماسکو میں منعقد ہوگا

شنگہائی تعاون تنظیم  Shanghai Cooperation Organization – (SCO) ن) ، نئے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور روس ، چین ، قازقستان ، کرغزستان اور تاجکستان کے رہنماؤں کی نشست کے ساتھ 1996 میں شہر شنگھائی میں ظہورپذیر ہوئی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 11 =