ایرانی قوم امریکی غنڈہ گری کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا ہے کہ امریکہ نے جوہری معاہدے اور قرارداد نمبر 2231 کیخلاف ورزی کے بعد گزشتہ ڈھائی سال سے ایرانی عوام کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے ملک کیخلاف ظالمانہ پابندیاں عائد کی ہیں تا ہم ایرانی قوم امریکی غنڈہ گری کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے پیر کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے سوئس وزیر خارجہ "ایگناتسیو کاسیس" کیساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ممالک کے درمیان تعلقات کا معیار بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چارٹر ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے اسلامی جمہوریہ ایران کو ہٹانے اور ایران کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے کے خواہاں ہیں اور اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غلط حساب کتاب سے ایران کیخلاف معاشی دباؤ ڈالنے سے اسلامی جمہوریہ ایران کو تین مہینوں کے اندر اندر ان کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کرنے کے در پے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی معاہدوں پر قائم ہیں اور اگر امریکہ اپنی غلطیوں سے دستبردار ہوجائے اور اپنے کیے گئے غیرقانونی اقدامات کا ازالہ کرے اور جوہری معاہدے اور قرارداد نمبر 2231 میں پھر سے شامل ہوجائے تو اس کیلئے راستہ کھلا ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ کو اب پتہ چل گیا ہے کہ اس نے غلطی کی ہے اور وہ پابندیاں لگانے اور دباؤ ڈالنے سے اپنے مقصد تک نہیں پہنچے گا۔

انہوں نے امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف پابندیاں لگانے، معاشی جنگ، ایران کے اعلی فوجی عہدیدار کے قتل اور ایرانی فضائی حدود کیخلاف جارحیت خود معاشی دہشتگردی، دہشتگردانہ کاروائی اور فضائی دہشتگردی کی واضح مثالیں ہیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ دوست اور آزاد ممالک امریکی دہشتگردی اور غیر قانونی اقدامات کے سامنے خاموش نہ رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران یورپی ملکوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ امریکی معاشی دہشتگردی کیخلاف مقابلہ کریں اور عملی اقدمات اٹھائیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے سوئس مالیاتی میکنزم کے نفاذ اور اس حوالے سے موثر اور تعمیری اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوئٹزرلینڈ کو یورپ کا ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان سائنسی، صحت، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

انہوں نے کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے دونوں مملکوں کے درمیان تجربات کے تبادلہ پر زور دیا۔

اس موقع پر ایگناتسیو کاسیس نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور تذویراتی تعلقات کی 100 ویں سالگرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کے فروغ پر زوردیا۔

 سوئس وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کو یہ جان لینا چاہئے کہ سلامتی میں زندگی گزارنے کے دنیا میں ایک مضبوط قانونی نظام موجود ہے، لہذا یہ ضروری ہے کہ خاص طور پر طاقتور ممالک بین الاقوامی قواعد و ضوابط پر پوری طرح عمل کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کے بُرے اثرات اور مشکلات سے پوری طرح واقف ہیں اور سوئس مالیاتی میکنزم بھی اس حوالےسے قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ہم اسے امور موثر اور تعمیری بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سوئس وزیر خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام سے اپنی ملاقاتوں کو تعمیری قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک مشکل حالات میں ایران کیساتھ کھڑا رہے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 1 =