ایران سے تجارتی لین دین کو اعلی ترین سطح پر پہنچنے کا عزم رکھتے ہیں: پاکستان

اسلام آباد، ارنا- پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارتی امور نے کہا کہ وہ مستقبل قریب میں  مشترکہ تجارتی کمیشن کے نویں اجلاس میں حصہ لینے کیلئے ایران کا دورہ کریں گے جس میں ایران سے تجارتی لین دین کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے اور اسے اعلی سطح پر پہنچنے کیلئے منصوبہ بندی کی جائی گی۔

ان خیالات کا اظہار "عبدالرزاق داود" نے ہفتے کے روز ارنا نمائندے کیساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

واضح رہے کہ ایران اور پاکستان کے مشترکہ تجارتی کمیشن کے نویں اجلاس کا اکتبر مہینے میں دارالحکومت تہران کی میزبانی میں انعقاد کیا جائے گا اور اس حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم  کے مشیر برائے تجارتی امور ایک  تجارتی وفد کی قیادت میں ایران کا دورہ کریں گے۔

 انہوں نے گزشتہ سال کے دوران، اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ تجارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے اس اجلاس کے اختتام میں باہمی مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی اور پاکستان سے ایران کو چاول کی برآمدات میں اضافے کا اقدام بھی اس حوالے سے ہے۔

عبدالرزاق نے کہا کہ ایران کو چاول برآمد کرنے میں پاکستان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اسی کے ساتھ ہم آسانی سے نقل و حمل کے لئے سمندری صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تا کہ اس طریقے سے ہم مال بردار ٹرکوں کی گنجائش سے زیادہ سامان برآمد کرسکیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارتی امور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک ایران سے مزید مصنوعات برآمد کرنے کا خواہاں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی مزید سامان درآمد کرنے میں دلچسبی رکھتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ بحثیث دو ہمسایہ اور بردار ملک کے ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات استوار ہونا چاہیے۔

عبدالرزاق نے کہا کہ ہم دونوں ملکوں کے کاروباری افراد کے مالی مسائل حل کرنے اور ادائیگی کا آسان طریقہ تلاش کرنے کے خواہاں ہیں اور اس مسئلے کو مشترکہ تجارتی کمیشن کے مستقبل اجلاس میں جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان ایک دوسرے کی قومی کرنسیوں کو تجارت کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ اور بھی آپشنز موجود ہیں جن سبھی پر ہم آئندہ دنوں میں تبادلہ خیال کریں گے۔

عبدالرزاق نے کہا کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارت بڑھانے میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھتے ہیں اور ان تعلقات کو فروغ دینے اور دوطرفہ تجارت کے حجم کو اعلٰی سطح تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہیں۔

انہوں نے سرحدوں میں چوبیس گنٹھے کی تجارتی سرگرمیوں کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم  مشترکہ کمیشن کے مستقبل کے اجلاس میں اس تجویز کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے ایران کے ساتھ سرحدی منڈیوں کی تعداد بڑھانے اور اسلام آباد حکومت کی جانب سے سرحد پر تجارت کو آسان بنانے کی کوششوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی زندگیوں کو آسان بنانا اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی آسان بنانا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارتی امور نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کی وجہ سے ملک میں مشکل حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ان مشکل حالات ملک کو اچھی طرح انتظام کرنے اور چلانے میں صدر روحانی کے کابینہ کی کارکردگی کو سراہا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 5 =