5 ستمبر، 2020 4:14 PM
Journalist ID: 2392
News Code: 84027770
0 Persons
امریکہ کو ٹرگر میکانزم استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے

تہران، ارنا - عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں کے متعدد بین الاقوامی قانون کے پروفیسرز نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ ٹرگر میکانزم کو استعمال کرنے کا امریکہ کا حق بے بنیاد ہے اور واشنگٹن کی جوہری معاہدے سے علیحدگی کے ساتھ ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کو بحال کرنے کے لئے ضروری شرائط نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، دنیا بھر کی نامور یونیورسٹیوں کے بین الاقوامی قانون کے 22 پروفیسرز نے بین الاقوامی قانونی مطالعات کے انسٹیٹیوٹ (ووئیلریریکٹس بلاگ) کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں ، ایران کے خلاف ٹرگر میکانزم کو استعمال کرنے کی امریکی کوشش کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اعلان کردیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مبنی پر اس میکنزم سے استعمال کے لئے امریکی تشریح غلط ہے لہذا وائٹ ہاؤس نے 15 اگست کو ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کے لئے سلامتی کونسل کو ایک مسودہ قرارداد پیش کیا جس میں 18 اکتوبر کو ختم ہونے والی اسلحہ پابندیوں کو دوبارہ تجدید کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اس اقدام کی سلامتی کونسل کے ممبروں کی بھاری اکثریت نے مخالفت کی۔ اس کے بعد ، امریکہ نے ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں کو بحال کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں ، اس نے سلامتی کونسل کے ممالک کی بھر پور حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
لیکن اس شکست کے پانچ دن بعد امریکہ نے 20 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ اس کا ارادہ ہے کہ 2015 کے جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں درج تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو شروع کیا جائے جس میکانزم کو "ٹرگر میکانزم" کہا جاتا ہے اور ایران کی ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کے جواب میں جوہری معاہدے کے ایک ممبر کے ذریعہ قائم کیا جاسکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا دعویٰ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت ایران کے خلاف ٹرگر میکانزم کو استعمال کرنے اور پابندیاں بحال کرنے کا امریکہ کو واضح حق ہے۔
امریکہ کو حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف کئی سفارتی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لہذا ، پابندیوں کی واپسی کے طریقہ کار کو متحرک کرنے کی موجودہ جدوجہد اس کی عالمی ساکھ کو ایک اور مہلک ضربہ لگ سکتی ہے۔
لیکن 12 ممالک کے 22 ممتاز بین الاقوامی قانون کے پروفیسرز کے بیان میں بین الاقوامی قانون کے لحاظ سے "ٹرگر میکانزم" شروع کرنے کے امریکی دعوے کی جواز کا جائزہ لیا گیا۔
اس بیان کے مطابق، بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے ، پہلی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اب جوہری معاہدے کا رکن نہیں ہے کیونکہ یہ ملک مئی 2018 میں اس بین الاقوامی معاہدے سے دستبردار ہوگیا تھا۔ لہذا ، امریکہ کی قرارداد 2231 سے تشریح سچ نہیں ہے کیونکہ اس قرارداد نے جوہری معاہدے میں شریک ملک کی حیثیت سے شامل نہیں کیا ہے۔
اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ منطقی طور پر ، ایک ایسے ملک جس نے کسی بین الاقوامی معاہدے میں اپنی شرکت ختم کردی ہے ، در حقیقت ، اس معاہدے میں حصہ لینے سے انکار کرچکا ہے جسی وجہ سے وہ سلامتی کونسل کے ذریعہ جوہری معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار کو شروع کرنے کا اہل نہیں ہے۔
دوسری طرف سے قرارداد 2231 کے مطابق ، جوہری معاہدہ ایران کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات اور تعاون کی ترقی کو فروغ دینے اور سہولت فراہم کرے گا اور سلامتی کونسل اس وعدے کے مطابق اس پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتی ہے۔ لہذا ، قرار داد 2231 کے مطابق ، جوہری معاہدے کے ہر ممبر کو عملی طور پر اور مؤثر طریقے سے منظور شدہ معاہدے میں شامل ذمہ داریوں پر عمل پیرا ہونا چاہئے اوراس معاہدے سے پیدا ہونے والی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہئے۔
تاہم ، یہ واضح رہے کہ امریکہ نے 14 مئی 2020 تک ایران پر 129 پابندیاں عائد کردی ہیں ، اور یہ واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ  نے جوہری معاہدے پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جوہری معاہدے کے باقی ممبروں کے ذریعہ یہ قانونی حیثیت ظاہر کی گئی ہے کہ امریکہ کو "ٹرگر میکنزم" طریقہ کار شروع کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ، وہ قانونی طور پر درست ہے۔
یکم ستمبر کو جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے 16 ویں اجلاس میں ایرانی نمائندے کے ساتھ فرانس ، جرمنی ، برطانیہ ، روس اور چین سمیت اس معاہدے کے باقی پانچ ممبران نے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے اور واشنگٹن کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 2 =