یورپ کو امریکی جارحانہ انداز کیخلاف ایران کا ساتھ دینا ہوگا: پاکستان کے سابق مندوب

اسلام آباد، ارنا- عالمی جوہری ادارے میں تعنیات پاکستان کے سابق مندوب نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکست کے بعد اسنیپ بیک میکنزم کے استعمال کا کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے یورپی اتحادی، وائٹ ہاوس کے جارحانہ انداز کی پیروی کے خواہاں نہیں ہیں اور ان کو امریکہ کے سامنے ایران کا ساتھ دینا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "علی سرور نقوی" نے بدھ کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے سامنے امریکی ذلت بار شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے ممبران نے ایرانی اسلحے کیخلاف پابندیوں کی توسیع میں امریکی درخواست کا مسترد کردیا۔

نقوی نے کہا کہ حتی کہ اس حوالے سے امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے بھی واشنگٹن کا ساتھ نہیں دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا ہے لہذا اس کو اس معاہدے کے میکنزم کے استعمال کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔

 سنیئر پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف جوہری معاہدے کو مسترد کرتا ہے اور دوسری طرف اس معاہدے کے اصولوں اور قوانین سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے سے متعلق ٹرمپ کا نقطہ نظر غیر معقول اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے؛ در حقیقت، امریکہ جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جس نے اپنے یورپی اتحادیوں کو آزادانہ فیصلے کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

نقوی کا کہنا ہے کہ امریکی طرز عمل کے نتیجے میں مغربی ممالک میں کوئی ہم آہنگی پیدا نہیں ہوئی ہے جبکہ ٹرمپ "امریکہ فرسٹ" کے نعرے کے تحت اپنی پالیسیوں کو یورپی ممالک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپین ایران سے بہتر تعلقات کےخواہاں ہیں اور جوہری معاہدے سے متعلق امریکی رویے کی مخالفت کرتے ہیں۔

نقوی نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف ہونے والی کسی بھی غلطی سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا لہذا ٹرمپ انتظامیہ کیجانب سے اسنیپ بیک میکنزم کے غیر قانونی استعمال کا کوئی اہمیت نہیں ہے اور اس کام کا کوئی انجام بھی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف واضح ہے لہذا یورپی اراکین کو امریکہ کے سامنے ایران کا ساتھ دینا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 2 =