ایرانی اسلحے کی پابندی کی واپسی کیلئے ٹرمپ کی دستاویزات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے

تہران،ارنا –  ایران کے صدراتی چیف آف اسٹاف نے کہا ہے کہ ایرانی اسلحے پر پابندی کی توسیع کیلیے ٹرمپ کی دستاویزات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

یہ بات محمود واعظی نے بدھ کے روز ایرانی کابینہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے ایران پر عائد پابندیوں کی واپسی کے لئے سلامتی کونسل میں امریکی یکطرفہ اقدامات کے بارے کہاکہ اس مسئلے کو قانونی، سیاسی اور بین الاقوامی نقطہ نظر سے جانچا جاسکتا ہے، جس کا پہلا پہلو قانونی ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ سلامتی کونسل یا بین الاقوامی اداروں یا اداروں میں پیش کی جانے والی کسی بھی کارروائی کی بنیاد قانونی ہونی چاہئے اور اس بات کو دنیا کے تمام وکلاء تسلیم کرتے ہیں تو ایرانی اسلحے پر پابندیوں کی توسیع کیلیے موجودہ امریکی انتظامیہ کی دستاویزات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ جوہری معاہدے اور قرارداد 2231 کا حوالہ دے رہے ہیں جبکہ نہ صرف وہ 1397 کے اوائل میں اس معاہدے سے دستبردار ہوئے بلکہ انہوں نے ایران اور اس سمجھوتے کے ممبر ممالک کے درمیان تعلقات کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اسی لیے امریکی اقدام کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

٭٭مشترکہ کمیشن اس بات پر متفق ہے کہ امریکی دستاویزات ناقابل قبول ہیں

محمود واعظی نے کہا کہ سلامتی کونسل کے 13ممبروں نے تحریری طور پر کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی کوئی اساس نہیں ہے اور قابل قبول نہیں ہے۔

واعظی نے گذشتہ روز ویانا میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس مشترکہ اجلاس میں شریک تمام اراکین نے اعلان کیا کہ امریکہ جس کا حوالہ دے رہا ہے وہ یقینی طور پر قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یہ ملک جوہری معاہدے کا ممبر نہیں ہے تو اسے ٹرگر میکانزم کے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

٭٭ٹرمپ دھمکیوں اور دباؤ کے ساتھ ووٹ جمع کرنا چاہتا ہے

انہوں نے گذشتہ بدھ کو اسلامی جمہوریہ ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کےدرمیان طے پانے والے معاہدے اور ایک مشترکہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے اکثر ممالک دنیا بھر کے ممالک نے IAEA کے ساتھ ایران کے تعاون کا خیرمقدم کیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 11 =