ایران اور پاکستان کی تجارت کا فروغ؛ کرونا کے خاتمے کیلیے مشترکہ تعاون

اسلام آباد، ارنا – کرونا نے ایک غیر متوقع طوفان کی طرح ممالک کے درمیان تجارت کو متاثر کیا ہے اور ایران اور پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے تا ہم دونوں ممالک حالیہ مہینوں میں کرونا کے باوجود باہمی تجارتی تعلقات کے فروغ میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ایران اور پاکستان کے دو دوست، ہمسایہ اور برادر ممالک کے مابین تجارت کی مزید ترقی نا صرف دونوں ممالک کی اقوام کی فلاح و بہبود خاص طور پر سرحدی باشندوں کی زندگی کی بہتری کے لئے ناگزیر ہے بلکہ  باقاعدہ اور منظم تجارت، دونوں ممالک کی سرحدوں پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام خاص طور پر بدامنی کے مجرموں سے نمٹنے کا کلیدی راستہ ہے۔

اگرچہ کرونا نے ابتداء میں ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو معطل کردیا لیکن چار مشترکہ سرحدوں کی مارکیٹوں کے کھولنے کے لیے دونوں حکومتوں کی منصوبہ بندی اور اقدامات نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا از سرنو آغاز کردیا۔

٭٭کرونا کے بغیر  پاکستان کیساتھ ایران کی معاشی سفارتکاری

کورونا کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیری اور موثر معاشی پالیسیاں اپنے ہمسایہ ممالک خصوصا پاکستان کے ساتھ تجارت کو جاری رکھنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

پچھلے دو ماہ کے دوران ، نہ صرف برآمدات اور درآمدات معمول پر آ گئیں بلکہ دونوں ممالک کے عہدیداروں نے ایران اور پاکستان کے مابین  تجارت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران پاکستان کے درمیان موجودہ تجارتی تعلقات کی بہتری کی وجہ سے اس تعاون کی ترقی کے لئے مناسب  مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ہمسایہ ممالک کے اعلی عہدیدار مشترکہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لئے پرعزم ہیں۔

پاکستانی صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں تعینات ایرانی قونصل جنرل 'حسن درویشن وند'نے آج بروز بدھ ارنا کے نمائندے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ کورونا کے بعد ، دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی ترقی قابل قبول ہے  اور ہم تیزی سے تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے اور کرونا سے پہلے دور کی طرف واپس آ رہے ہیں۔

٭٭ایران اور پاکستان کے درمیان صوبائی تعلقات کی توسیع

زاہدان میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل'محمد رفیع' نے اسلامی جمہوریہ ایران کے چھٹے تجارتی شراکت دار کی حیثیت سے کہا کہ پاکستان، کرمان اور یزد کے صوبوں کے ساتھ تجارتی تعاون کے ساتھ ایک نئی لائن کے قیام کے ساتھ ایران کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان وسیع کثیر الجہتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے  کہا کہ ہمیں تجارتی تبادلوں کو مزید فروغ دینا ہوگا۔

ایرانی صوبے کرمان میں صنعت، مائنز اور تجارت کی تنظیم کے مطابق سنہ 1398 کو پاکستان میں اس صوبے کی برآمدات کی شرح 40 ملین ڈالر تھی جو آنے والے سالوں میں یہ شرح 200ملین ڈالر تک پہنچ جانی چاہیے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =