پاکستان ایران سے معاشی تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے

کرمان، ارنا- ایرانی جنوبی شہر زاہدان میں تعینات پاکستانی قونصلر نے کہا ہے کہ پاکستان، ایران کے دو صوبوں کرمان اور یزد کیساتھ تجارتی لین دین قائم کرنے سے ایران سے معاشی تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد رفیع" نے منگل کے روز صوبے کرمان اور پاکستان کے درمیان معاشی تعاون سے متعلق منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم مویشیوں، مرغی، ٹرکی، بٹیر اور پھلیاں کے شعبے میں صوبے کرمان سے معاشی تعاون پر تیار ہیں۔

رفیع نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے مختلف شعبوں میں وسیع تعلقات ہیں اور وہ باہمی تجارتی تعلقات کا فروغ دے سکتے ہیں۔

پاکستانی قونصلر نے کہا کہ پڑوسی ہونے کے ناطے سے دونوں ملکوں کے درمیان خصوصی تعلقات کیلئے تجارتی تعاون کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے کرمان اور یزد کے صوبوں سے تجارتی تعلقات کا فروغ پاکستان کے ایجنڈے میں ہے کیونکہ پاکستان کے اب صرف صوبے سیستان و بلوچستان سے زیادہ تعلقات ہیں۔

رفیع نے کہا کہ ایران - پاکستان تجارتی تعلقات میں بینکنگ پابندیاں سب سے اہم مسئلہ ہیں، لہذا ہم  بارٹر سسٹم کے نفاد کا بند و بست کیا ہے اور آئندہ 6 ماہ میں اس عمل کو لاگو کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کرونا کی وبا کے بعد ایرانی تاجروں اور ڈرائیوروں کو 2 ہزار ویزے جاری کردیئے ہیں اور مرکزی حکومت کیجانب سے پابندی کے سبب تجارتی ویزوں کا اجراء شروع ہوگیا ہے۔

رفیع نے کہا کہ مارچ میہنے سے پچھلے دو مہینوں تک تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن اب ایرانی تاجروں اور ڈرائیوروں کیلئے روزانہ 50 سے 70 تک ویزے جاری کیے جاتے ہیں اور پاکستان میں گذشتہ 10 دن سے ٹریفک کی پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اور ویزا کی پابندیاں بھی ختم کردی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ  کرونا وائرس کے پھیلاو سے اب تک ایران سے برآمد شدہ مصنوعات پر مشتمل 2 ہزار ٹرک پاکستان میں داخل ہوگئے ہیں حالانکہ اسی عرصے میں پاکستان نے ایران میں برامدات نہیں کی ہیں کیونکہ ہمارا ویزہ کا مسئلہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس مسئلے کا سفارتی طریقوں سے جلد حل ہوجائے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 0 =