تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے پر تیار ہیں: روس

ماسکو، ارنا- روسی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کی حمایت پر زور دیتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے انعقاد میں سہولت کار بننے میں تیاری کا اظہار کردیا۔

ان خیالات کا اظہار "سرگئی لاوروف" نے آج بروز منگل کو ماسکو کی یورنیورسٹی برائے بین الاقوامی امور کے اساتذہ اور طالب علموں کیساتھ منعقدہ ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

لاوروف نے کہا کہ اگر دونوں فریقین کو براہ راست مذاکرات کرنے میں دلچسبی ہو تو ہم اس حوالے سے سہولت کار بننے میں تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ اختلافات اور حل طلب مسائل کا براہ راست بیان کرنا اور ان کے بلا واسطہ پاسخ دینا، کسی بھی حل سے بہتر ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ایک بار پھر ایران جوہری معاہدے اور گروہ 1+5 سے امریکی علیحدگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا بلکہ اس نے دوسرے ملکوں کو بھی ایران سے تجارتی لین دین سے منع کیا۔

لاوروف نے کہا کہ امریکہ کے بعض اتحادی نے بڑی تذلیل سے ان سے ایران کیساتھ تجارتی لین دین سے متعلق استثنی دینے کا مطالبہ کیا؛ ایک ایسی صورتحال جس کو پچھلے 10 سالوں میں کوئی بھی ایسا ہونے کا سوچ بھی نہیں کرسکتا۔

انہوں نے امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف اقوام متحدہ کی منسوخ شدہ پابندیوں کا از سر نو نفاذ کرنے کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ وہ میکنزم جس سے امریکہ ایران کیخلاف پابندیوں کی بحالی کیلئے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے وہ در اصل اس وقت استعمال ہو سکتا ہے جب ایران اپنے جوہری وعدوں پر پورا نہ اترے۔

لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 8 =