جوہری معاہدے کا مشترکہ کمیشن امریکی یکطرفہ اقدامات کا مقابلہ کرے: عراقچی

لندن، ارنا – نائب ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کے باقی اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی یکطرفہ اقدامات کا مقابلہ کریں۔

یہ بات نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور 'سید عباس عراقچی' جو جوہری معاہدے کے 16 ویں مشترکہ کمیشن کی شرکت کیلیے ویانا کے دورے پر ہے، نے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے جوہری سمجھوتے کے باقی ممبروں سے امریکہ کی یکطرفہ اقدامات کے خلاف ڈٹ جانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے امریکی قرار داد کی مخالفت میں سلامتی کونسل کے ممبران کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیو یارک میں امریکی کوششوں کا موضوع جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں یقینی طور پر ایک سنجیدہ بحث ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مشترکہ کمیشن اور جوہری معاہدے کو تباہ کرنے کے لئے امریکی کوششوں کے ساتھ مقابلے کیلیے ایک سنجیدہ اقدام اٹھائے۔

عراقچی نے کہا کہ امید ہے کہ  ممبر ممالک نیویارک کی طرح اپنے مواقف پر پابند رہیں اور عہدوں پر عمل کریں تا کہ ہم مشترکہ کمیشن میں ایک سنجیدہ  اور تعمیری نتیجے پر پہنچ سکیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے جوہری کمیشن کی آج کی میٹنگ کو معمول کا اجلاس قرار دیا جو جوہری معاہدے کے معمول کے مطابق اسے ہر تین ماہ میں ایک بار منعقد کیا جانا چاہئے لیکن اس بار کرونا کے حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ کمیشن ایک متفقہ فیصلے پر پہنچے اور جوہری معاہدے کی تباہی کیلیے امریکی کوششوں سے نمٹنے کے تسلسل کے طریقوں کیلیے فیصلہ کرے۔

اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ، جوہری معاہدے کا مشترکہ کمیشن کا اجلاس آج (منگل) گیارہ بجے (مقامی وقت) ویانا میں ایرانی وزارت خارجہ اور گروپ 4 پلس ون کے اعلی حکام  کی موجودگی میں  منعقدہ ہوگا۔

سید عباس عراقچی نے گزشتہ روز آسٹریا کا دورہ کیا اور اب تک دوسرے وفود کے ساتھ دوفریقی ملاقاتیں کی ہیں وہ آئی اے ای اے کے اجلاس میں شرکت کے بعد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی سے بھی ملاقات کریں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 3 =