چابہار- گوادر بندرگاہوں کے تعلقات سے تہران- اسلام آباد تعاون کو تقویت ملی ہے

اسلام آباد، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے سفارتکاروں اور خارجہ تعلقات کے ماہرین کا ایک گروپ نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے علاقائی معاشی تنظیموں کی صلاحیت کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چابہار اور گوادر بندرگاہوں کے تعلقات سے دوطرفہ اور علاقائی تعلقات کو تقویت ملی ہے۔

ویبنار " کورونا کے بعد پاکستان- ایران کے درمیان اقتصادی شراکت کا جائزہ" اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کے تعاون سے پاکستان کے شہر لاہور میں منعقد ہوا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ اور پاکستان میں سابق سفیر کے مشیر 'ماشاءاللہ شکیری' اور وزارت خارجہ کے دفتر برائے سیاسیات اور بین الاقوامی مطالعات کے سینئر ماہر 'مسعود محمد زمانی' نے ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران خطے اور دنیا کے موجودہ منظرناموں پر غور کرتے ہوئےدونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعاون کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی ماہرین نے پاکستان ، چین اور روس کے ساتھ مشترکہ معاشی تعلقات کی ترقی کے لئے اسلامی جمہوریہ کے موثر موقف  اور تہران اسلام آباد تعاون کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی تعاون اور ہمسایہ ممالک کی سفارت کاری کے بارے میں ایران کی اصولی پالیسی ہمسایہ ممالک خاص طور پر مشرقی پڑوسی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے ایران سے پاکستان میں گیس کی منتقلی کے منصوبے کو آگے بڑھانے میں پاکستانی فریق کی تاخیر پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ہمسایہ ملک میں گیس کی منتقلی کے لئے تیار ہے۔

ایرانی ماہرین نے ہم  پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) میں شمولیت کے لیے آمادہ ہیں۔

اس موقع میں پاکستانی ماہرین نے اسلامی جمہوریہ ایران کی سی پیک منصوبے میں شمولیت اور پاکستان کے تہران اور بیجنگ کے مابین مستقبل میں طویل المدتی تعاون کے منصوبے سے پاکستان کے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے سخت پابندیوں کے سامنے ایران کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے  امریکی دباؤ اور پابندیوں سے بچنے کے لئے چین کے  تعاون کے ساتھ خطے میں توانائی کے منصوبوں خاص طور پر ایران- پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 0 =