واشنگٹن کو کبھی اپنی ناجائز خواہش کا حصول نہیں ہوگا: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی قوانین اور قرارداد 2231 کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والے اقدام میں محض سلامتی کونسل کے صدر کو ایک "درخواست" پیش کی ہے اور امریکہ کو اس طرح کے اقدام کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اسے کبھی اپنی ناجائر خواہش کا حصول نہیں ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے آج بروز جمعہ کو سلامتی کونسل میں امریکی غیرقانونی اقدامات سے متعلق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سب سے پہلے اس بات پر زور دینا ضروری ہے کچھ ذرائع ابلاغ اور میڈیا والے سلامتی کونسل کی قراردادوں جو قرارداد 2231 کے تحت منسوخ کی گئی تھی کی بحالی کے لئے امریکہ کی بے بنیاد کوششوں سے متعلق خبروں کی اشاعت میں لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ وہ دراصل اس بات کو دیکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صرف امریکہ کی درخواست پر قراردادیں منسوخ ہوجائیں گی، ایران مخالف پابندیاں بحال ہوں گی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کیخلاف پابندیاں عائد کرے گی۔

خطیب زادہ نے کہا کہ لیکن امریکہ نے بین الاقوامی قوانین اور قرارداد 2231 کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والے اقدام میں محض سلامتی کونسل کے صدر کو ایک "درخواست" پیش کی ہے اور امریکہ کو اس طرح کے اقدام کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے تمام اراکین نے اس درخواست کے بارے میں امریکی اختیار کو مسترد کردیا ہے اور امریکہ اپنے حلیفوں میں اس قدر الگ تھلگ ہوگیا ہے کہ اس نے تینوں یورپی ممالک کو "ایران کے آیت اللہ کے اتحادی" کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے دیگر اراکین، جن میں تین یورپی ممالک جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ روس اور چین بھی شامل ہیں، نے فوری طور پر اور امریکہ کی بے بنیاد اور غیر قانونی درخواست کی شدید مخالفت کی اور سلامتی کونسل کے صدر کو آگاہ کیا؛ سلامتی کونسل کے دیگر ممبران بھی آنے والے دنوں میں ایسا ہی مؤقف اپنائیں گے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں امریکی شکست پر تبصرہ کرت ہوئے کہا کہ  واشنگٹن کو کبھی اپنی ناجائز خواھش کا حصول نہیں ہوگا۔

خطیب زادہ نے مزید کہا کہ امریکہ کا اصل مقصد ایران کیخلاف معاشی دہشتگردی کے ذریعے ایرانی معاشی سیکورٹی کو تباہ کرنا ہے اور ہم اللہ رب العزت کی مدد اور فعال سفارتکاری سے ایک بار پھر امریکہ کو عالمی اسٹیج میں تنہائی کا مزہ چکائیں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی حکومت، ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی سے ڈھائی سال گزرنے کے بعد پھر بھی جوہری معاہدے میں شراکت دار بننے  اور اسے جوہری معاہدے کے تحت قرارداد 2231 کے میکنزم کے استعمال کرنے کے حق کا دعوی کرتی ہے۔

لہذا انہوں نے 13 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 4 پیراگراف پر مشتمل ایران کیخلاف ایک قرارداد کو پیش کی؛ امریکی قرارداد کو سلامتی کونسل میں صرف دو ووٹ مل گئے؛ ایران مخالف قرار داد پر ہونے والی ووٹنگ میں گیارہ ممالک نے حصہ نہیں لیا، دو ممالک نے اس کی حمایت جبکہ دو ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے؛ قرارداد کے حق میں امریکا کے علاوہ صرف جمہوریہ ڈومینیکن نے ووٹ ڈالا جبکہ روس اور چین نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈال کر اسے ویٹو کر دیا۔

اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے 20 اگست کو اقوام متحدہ میں اسنیپ بیک میکنزم کے تحت ایران کیخلاف سلامتی کونسل کی منسوخ کی گئی قراردادوں کے از سر نو نفاذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 2 =