پچھلے 6 سالوں کے دوران 3400 ثقافتی ورثوں کو ایران میں واپس لایا گیا ہے

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر برائے ثقافت اور سیاحتی صنعت نے کہا ہے کہ 2013ء سے اب تک 3400 تاریخی اور ثقافتی ورثوں کو ملک واپس لایا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد حسین طالبیان" نے پیر کے روز تہران میں تعینات یونانی سفیر "دیمیتری الکساندر اکیس" سے ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ثقافتی ورثوں کو ملک میں واپس لانے میں کامیاب ممالک میں سے ہے اور ایران کے اس اقدام نے عالمی مارکیٹ میں ثقافتی مصنوعات کی فروخت اور اسمگلنگ کو رکاوٹ کا سامنا کیا ہے۔

طالبیان نے کہا کہ کیونکہ ایران کو بھی یونان کی طرح گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تاریخی ورثوں کی اسمگلنگ اور چوری کرنے کا شکار ہے اور ہمیں امید ہے کہ باہمی تعاون اور مناسب طریقے نکالنے سے چوری ہونے والے ثقافتی ورثوں کو وطن واپس لاسکیں گے۔

اس ملاقات میں دونوں فریقین نے ثقافتی ورثوں کو وطن واپس لانے پر باہمی تعاون اور تجربات کے تبادلہ پر زور دیا۔

در این اثنا دیمییتری الکساندر نے دنیا میں ثقافتی ورثے، سیاحتی صنعت اور دستکاری مصنوعات کو قوموں کے درمیان قیام امن و استحکام کے اہم عناصر قرار دیتے ہوئے ثقافتی ورثوں کو وطن واپس لانے میں ایران سے تعاون پر دلچسبی کا اظہار کرلیا۔

یونانی سفیر نے باہمی ثقافتی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تخت جشمید اور اکروپلیس کے محور پر ایک سمینار کے انعقاد کی تجویز بھی دی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 10 =