ادویات کی پابندیوں کی کرونا ویکسین تک منصفانہ رسائی میں رکاوٹ

تہران، ارنا – امریکہ کی دوسرے ممالک کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر طبی میدان میں ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیاں بھی شامل ہیں اور کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں پابندیاں عائد ہونے والے ممالک کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں رکاوٹ اور کوویڈ 19 ویکسین تک آزادانہ اور منصفانہ رسائی کی رکاوٹ واشنگٹن کے انسانیت کے خلاف جرائم کی بلیک لسٹ میں ایک اور صفحہ کی نشاندہی کرتا ہے۔

امریکہ نے کرونا وائرس کے وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں اپنے یکطرفہ جبر اور غیر قانونی اقدامات کو جاری رکھنے اور تیز کرنے کے ذریعہ معاشی دہشت گردی کی سرخ لکیروں کو عبور کر کے انسانیت کے خلاف جرائم کی سرحد پر پہنچا ہے۔
تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ، 145 سے زیادہ دواسازی کی کمپنیاں اور یونیورسٹیاں کرونا وائرس ویکسین پر کام کر رہی ہیں۔
دنیا میں کرونا وائرس کے انفیکشن کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 17 ملین سے تجاوز کرگئی ہے اور مجموعی طور پر کوویڈ 19 کی وجہ سے 670 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
آج کل کرونا وائرس ویکسین کے لئے مختلف ممالک میں تحقیقی مراکز کے مابین ایک موثر ریس چل رہی ہے ، جس سے میڈیکل اور دواسازی کی سائنس میں ترقی کا باعث بن سکتا ہے۔
عالمی ادارے صحت سے منظور شدہ کرونا وائرس ویکسین ابھی تک تیار نہیں کی گئی ہے لیکن پوری دنیا کے تحقیقی مراکز چوبیس گھنٹے ایک ویکسین تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور قابل اعتماد نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران بھی میڈیکل اور فارماسیوٹیکل سائنس میں نمایاں ترقی کی بدولت ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جس نے کرونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں بڑے اقدامات کیا ہے۔
ایرانی وزیر صحت ڈاکٹر سعید نمکی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ایرانی کرونا وائرس ویکسین جلد ہی کلینیکل آزمائشی مرحلے میں داخل ہوجائے گی۔
اگرچہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایران میں داخل ہونے والی دوائیوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے مگر امریکی پابندیوں کی وجہ سے بینکاری اور تجارت کے شعبوں میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایران مخالف پابندیاں ایران میں ادویات کی درآمد یا دوا کے لئے خام مال کی فراہمی میں بھی رکاوٹ ہیں، اس طرح امریکی پابندیوں کی فہرست میں آنے والے ممالک میں متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یاد رکھیں کہ ایران میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 300 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور 16 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 1 =