ایرانی ماہرین کی کوششوں سے زر مبادلہ کے ذخائر کے استعمال میں 3 ملین یورو کی بچت

تہران، ارنا-  XU Plus انجن پروجیکٹ کے مینجر نے کہا کہ اس انجن کو ملک کے اندر تیار کرنے سے صرف مصنوعات کی ترقی کے سلسلے میں زر مبادلہ کے ذخائر کے استعمال میں کم سے کم 3 ملین یورو کی بچت ہوگی۔

"محمد کاظمی" نے کہا کہ سالانہ 100 ہزار پرزوں کی پیداواری صلاحیت سے XU Plus انجنز کی بڑے پیمانے پر پیداوار آنے والے مہینوں میں آغاز ہوجائے گا اور منصوبہ بندیوں کے مطابق، ایکس یو پلس انجن مستقبل قریب میں ایران خودرو کمپنی کی ورک گاڑیوں پر استعمال ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ XU Plus انجنز جسے بعد میں XU سے جانا جاتا ہے، کی ترقی میں اہم بات یہ ہے کہ مصنوعات کی ترقی، پرزوں اور بنیادی ڈھانچوں، اسمبلیوں اور سسٹموں کی تیاری کا سارا عمل ایران خودرو کمپنی کے ریسرچ سنٹر، ایپکو، سیپکو اور ملک کے تمام مینوفیکچررز کے ماہرین کی مدد سے کیاگیا ہے اور سو فیصد بالکل ملکی ساختہ ہے۔

کاظمی کا کہنا ہے کہ اس پروڈکٹ ڈویلپمنٹ پلان میں، ملک کی آٹوموبائل انڈسٹری میں کرنسی کی بچت پیدا کرنے کیلئے دیگر ملکوں سے کوئی معاہدے اور انحصار نہیں تھے۔

انہوں نے سالانہ 100 ہزار XU Plus انجنز کی پیداواری صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انجن کی مستقل حجم، بڑھتی ہوئی طاقت اور ٹارک موجود ہے اور شہری ڈرائیونگ سائیکل میں اس کے ایندھن کی کھپت 7.7 لیٹر فی سو کلومیٹر ہوگی۔

یہ انجن دوہری برنر ہے اور گیس سے چلنے والے حالات میں بھی صارف کیلئے ڈرائیونگ کی اچھی صلاحیت مہیا کرتی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 12 =