امریکیوں کے قول و فعل میں کوئی صداقت نہیں ہے: موسوی

تہران، ارنا – ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکیوں کے قول و فعل میں کوئی اخلاص نہیں ہے۔

یہ بات سید عباس موسوی نے پیر کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں ارنا کے نمائندے کے جواب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ امریکیوں کے قول و فعل میں کوئی اخلاص نہیں ہے اور بین الاقوامی افغان مذاکرات افغان حکومت کی قیادت میں ہونا چاہئے اسی لیے ہم اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے امریکی نمائندے برائے افغان امن امور ' زلمی خلیلزاد' کے دعوے، کہ ایران افغانستان میں امن کی کوششوں کے لئے بھرپور حمایت نہیں کرتا ہے، کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے خطے خصوصا افغانستان میں تعاون کے بارے میں امریکیوں کے قول و فعل میں کوئی دیانتداری نہیں ہے اور ہم خطے میں ان کی موجودگی کو خاص طور پر افغانستان میں عدم استحکام اور عدم تحفظ کا سبب سمجھے ہیں۔

انہوں نے شامی حدود میں حالیہ دنوں میں امریکی لڑاکا طیاروں کی جانب سے ایرانی مسافربردار طیارے کو ہراسان کرنے کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اس واقعے کے حوالے سے مکمل رپورٹ پہنچے تو ہم قانونی کارروائی کے علاوہ اس معاہدانہ اقدام کا مناسب جواب بھی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایرانی اسلحے پر پابندی کو جاری رکھنے کے لیے اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوگا۔

موسوی نے کہا کہ ہمارے لیے اہم نہیں ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں کوں اقتدار میں آئے گا بلکہ امریکی حکومت کا طرز عمل اور اقدامات ایران کے لئے اہم ہیں۔

انہوں نے جنوبی کوریا سے قرضوں کی وصولی کے لئے ایران کی جانب سے کی جانے والی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات میں کسی تیسرے فریق کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 8 =