کرونا وائرس کے بعد نیا عالمی نظام بالکل مغربی نہیں ہوگا: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پچھلے 30 سالوں کے دوران دنیا کا ایک انتہائی پریشان کن وقت رہا اور ہمیں جنگوں، زبردست تبدیلیوں اور بین الاقوامی برادری میں تباہ کن واقعات دیکھنے میں آئے لیکن کرونا وائرس کے بعد نیا عالمی نظام مکمل طور پر مغربی نہیں ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز پیر کو تہران یونیورسٹی آف ورلڈ اسٹڈیز کالج میں انگریزی زبان میں آن لائن طور پر بین الاقوامی سامعین اور ناظرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کچھ طاقتوں نے ایک نیا مستقبل بنانے کی کوشش کی اور نہ صرف پیش گوئی کی بلکہ مستقبل کی پیشرفتوں کا مشورہ بھی دیا۔

ظریف نے کہا کہ سپر پاورز نے ایک غلط حساب کتاب کیا اور اس وقت کے امریکی صدر کی طرف سے نئے عالمی آرڈر کا اعلان، عالمی حکمرانی اور نئی امریکی صدی کا مسئلہ اور پچھلے 30 سالوں میں امریکی جنگی جہاز کے ڈیک پر فتح کا اعلان مستقبل کو مروڑنے کی کوشش تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور بری چیزوں کو ہونے سے روکنا ہے تو ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں ہیں اور ہم کہاں جارہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یاد رکھیں کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم نے ایک نیا ورلڈ آرڈر بنانے کیلئے 7 کھرب ڈالر خرچ کیے اور ناکام رہا۔

ظریف نے کہا کہ پوری تاریخ میں، پرانا آرڈر گر گیا اور نیا آرڈر نے بڑے پیمانے سے خونریزی سے اس کی جگہ لے لی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ مکمل طور پر مغربی نقطہ نظر ہمیں عالمی واقعات کی تفہیم فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے؛ نیا عالمی نظم اب پوری طرح سے مغربی نہیں ہوگا۔

 ظریف نے بیسویں صدی کے اہم واقعات جیسے پہلی اور دوسری عالمی جنگ اور سرد جنگ سمیت تنازعات کو روکنے میں مغربی پالیسیوں کی ناکامی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب اور یکجہتی تحریک سرد جنگ سے بچنے کی کوششیں تھیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 1 =