پابندیوں کے دوران ملک میں بڑے منصوبوں کا نفاذ کریں گے: نائب ایرانی صدر

زنجان، ارنا- نائب ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف لگائی گئی سخت اور ظالمانہ پابندیوں کے باوجود ہم ملک میں بڑے پیمانے پر منصوبوں کا نفاذ کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد باقر نوبخت" نے آج بروز پیر کو صوبے زنجان کی تنظیم برائے منصوبہ بندی اور مینجمنٹ کے عہدیداروں اورعملے کیساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے عراقی معدوم صدر صدام کی بعث پارٹی کیجانب سے کویت پر جارحیت کی مذمت اور سزا کے دوران، عراقی تیل کے بجائے امریکی خوارک کی واشنگٹن کی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں عراق نے کھانے کی ضرورت کے مطابق تیل برآمد کی تھی جبکہ امریکہ نے ایران کیخلاف پابندیوں کے ذریعے ہمارے ملک میں تیل برآمد نہ کرنے کی کوشش کی اور حتی کہ ایران کے پاس ادویات کی فراہمی کیلئے کوئی مالی وسائل بھی نہیں ہے۔

نوبخت نے کہا کہ ایران سال بھر میں 50 ارب ڈالر کی درآمدات کر رہا ہے جن کے رقوم کی ادائیگی کیلئے سرکاری وسائل یا کہ تیل کی برآمدات کی آمدنی کا استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کے دوران ہمیں ملک میں 3 ارب 500 ملین ڈالر کی مالیت پر مشتمل ادویات درآمد کرنا پڑا؛ اس کے علاوہ بنیادی سامان کی درآمدت کیلئے 15 ارب ڈالر ادا کیے گئے اور یہ ایک ایسے وقت ہے جب غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی نہیں ہوتی ہے اور خاص طور پر نان آئل مصنوعات برآمد کرنے والوں کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نائب ایرانی صدر نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کو ضروری ادائیگی کرنے سے روکنا، لوگوں کی رواداری کی حد کو کم کرنا اور اسلامی جمہوریہ کے نظام کو نااہل ظاہر کرنا ہے۔

انہوں نے ایران کے مالی وسائل میں کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات کے باوجود بھی 20 لاکھ افراد ملک کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی برطرف کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا ہے۔

نوبخت نے ایران کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے ہمدان اور سنندج کے درمیان ریلوے منصوبے اور بستان آباد علاقے سے تبریز تک ریلوے منصوبے کے علاوہ جنوبی علاقوں میں چابہار پورٹ سے زاہدان تک 740 کلومیٹر پر مشتمل ریلوے منصوبوں پر کام جاری ہے اور ان صوبوں میں بڑے منصوبے بشمول تقیسم گیس، سڑک سازی و غیرہ پر کام کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کا ذکرکرتے ہوئے اسے ٹرمپ کی بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اس اقدام کی وجہ سے ایران کو بہت بڑے مشکلات کا سامنا پڑا لیکن پھر بھی ہم معاشی صورتحال میں بہتری آنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 2 =