آیا صوفیہ مسجد کا دوبارہ کھولنا ایک دلیرانہ اقدام اور عالم اسلام کے ورثہ کی واپسی ہے

تہران، ارنا -  اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کے سکریٹریٹ نے کہا ہے کہ آیا صوفیہ کا دوبارہ کھولنا ایک دلیرانہ اقدام اور عالم اسلام کے ورثہ کی واپسی ہے۔

اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کے سکریٹریٹ نے اتوار کے روز اپنے جاری کردہ ایک بیان میں آیا صوفیہ مسجد کے دوبارہ کھولنے کو ایک بہادرانہ اقدام اور عالم اسلام کے ورثے کی واپسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مغربی ثقافتی تسلط کے ساتھ لڑنے اور حکمت کی علامت ہے۔

اس سکریٹریٹ کے بیان نے دنیا کے تمام مسلمانوں سے اس دانشمندانہ اقدام کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔

آیا صوفیہ مسجد  پانچ صدیوں سے عالم اسلام کی سب سے اہم ثقافتی ثقافتی ورثے میں سے ایک تھی لیکن پرانے برطانوی نوآبادیاتی نظام نے جس کو مسلمانوں نے ان پانچ صدیوں میں شدید دھچکا پہنچایا ہے، اسلام کی نابودی، مسلمانوں کی تقدیر پر غلبہ حاصل کرنے، اسلامی فتوحات اور تہذیب کے عظیم الشان دن کو فراموش کرنے اور اسلامی علامتوں کے خاتمے کیلیےمسلمانوں کی عبادت گاہ اور خدا کے مخلص بندوں کی عبادت گاہ کو میوزیم میں تبدیل کردیا۔

اس اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا کہ ترکی کی حکومت خصوصا اس اسلامی ملک کے صدر نے ایک بہادرانہ اور قابل ستائش اقدام میں اسلام کی پہچان کو بحال کرنے اور اسلامی ورثہ کو اسلامی دنیا میں واپس کرنے کی کوشش کی۔

اس بیان نے یہ زبردست عمل جو مغربی ثقافتی تسلط کے ساتھ لڑنے، خردمندی، مسلمانوں کی شناخت کو زندہ کرنا ، وقار اور ثقافتی ورثہ کا تحفظ اور ... اور ۔ ۔ ۔ کی علامت ہے، کو سراہتے ہوئے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں سے اس اقدام کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔

ترکی سپریم کورٹ نے 9 جولائی کو آیا صوفیا میوزیم کے استعمال کو تبدیل کرنے کے منصوبے پر غور کرنے کے لئے ایک نشست کو منعقد کیا اور  ترکی صدر نے اپنے ایک حکم میں 24 جولائی میں اس میوزیم کو مسجد میں تبدیل کردیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 3 =