تمام ایشیائی اور یوریشیائی ممالک سے توازن پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں: ایران

تہران،ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک یوریشیائی، مشرقی اور مغربی ایشیائی طاقتوں سے توازان پر مبنی تعلقات کا سلسلہ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس موسوی" نے ہفتے کے روز ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے پہلے ہی سے یوریشیائی، مشرقی اور مغربی ایشیائی طاقتوں سے توازان پر مبنی تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

موسوی نے کہا کہ چین اور روس سے طویل المدتی تعاون منصوبے اور چابہار پورٹ میں بھارت سے تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ ہم اپنی اس پالیسی پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ تعاون منصوبے کے مسودے کی منظوری دی گئی ہے اور اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" نے بھی اپنے حالیہ دورہ روس میں ماسکو سے 20 سالہ تعاون منصوبے کی تجدید کی تصدیق کی۔

 اس کے علاوہ ایران چابہار پورٹ میں بھارت سے تعاون کر رہا ہے اور بھارت اور یورپ کے راستے میں ایران کی ٹرانزٹی صلاحیتوں کے استعمال سے متعلق دونوں ملکوں کے درمیان تعاون جاری ہے؛ جیسے کہ اس حوالے سے ایران، بھارت اور افغانستان نے چابہار معاہدے پر دستخط کیا ہے۔

اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران اور یوریشین یونین کے درمیان آزاد تجارت کے عبوری معاہدے کا 27 اکتوبر سے آغاز کیا گیا۔

اس معاہدے کے نفاذ کے ایک سال بعد، ایران اور یوریشن رکن ممالک کیساتھ آزادانہ تجارت کے انتظامات کیے جائیں گے۔

اس عبوری تجارتی معاہدے میں 862 کی مختلف قسم مصنوعات شامل ہیں جن میں سے 360 قسم کی مصنوعات کو ایران سے یوریشن یونین میں برآمدات کی جاتی ہے اور باقی 502 قسم کی مصنوعات کو یوریشین یونین سے ایران میں برآمد ہوجائے گی۔

فی الحال، روس، بیلاروس، قازقستان، آرمینیا اور کرغزستان یوریشین یونین کے پانچ ممبر ہیں لیکن اس یونین نے 40 سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کرلیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =