ایران علاقے کے طاقتور ممالک میں سے ایک ہے

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران میں تعنیات آسٹریا کے سفیر نے دونوں ملکوں کے درمیان 700 برس کے پرانے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریا گزشتہ عرصوں میں ایک طاقتور ملک تھا لیکن ایران ابھی بھی علاقے کے طاقتور ممالک میں سے ایک ہے۔

ان خیالات کا اظہار "اشتفان شولتس" نے آج بروز بدھ کو ایرانی ریڈ کریسنٹ کمیٹی کے سربراہ "کریم ہمتی" سے ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایرانی ریڈ کریسنٹ کمیٹی اور تہران میونسپلٹی کرائسز مینجمنٹ آرگنائزیشن کی 2 ٹیمیں بین الاقوامی امدادی ٹیموں کے تربیتی مشقوں میں شریک ہوں جو یورپی ممالک میں منعقد ہوں گے۔

شولتس نے کہا کہ یہ تربیتی مشقیں ابھی تک آسٹریا اور ڈنمارک میں منعقد کی گئیں ہیں اور ہمارے یورپی شراکت دار ایرانی امدادی کارکنوں کے تازہ ترین علم سے متاثر ہوئے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امدادی ٹیموں میں ایرانی امدادی کارکنوں کی موجودگی کی دو انتہائی اہم خصوصیات ہیں؛ سب سے پہلے ایرانی ہلال احمر کی امدادی ٹیموں کو بین الاقوامی آفات میں مدد فراہم کرنے کا انتہائی اعلی سطح کا تجربہ ہے اور دوسری طرف، بین الاقوامی آفات میں ریفرنس ٹیموں کی حیثیت سے ایرانی امدادی ٹیموں کی موجودگی، ایران کو بین الاقوامی میدان میں پہلی امداد کے طور پر متعارف کراتی ہے اور ایرانی ہلال احمر کی اعلی طاقت کو بھی ظاہر کرے گی۔

 اس موقع پر ایرانی ریڈ کریسنٹ کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے چین نے 70 امدادی کھیپیں ایران بھیج دیں اور مجموعی طور پر 157 بین الاقوامی امدادی کیپھوں کو ایرانی ہلال احمر کمیٹی کا حوالہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی ہلال احمر کمیٹی اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں اور ہمسایہ ممالک سے تعمیری تتاون کے پیش نظر گزشتہ مہینوں کے دوران کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایران کی اچھی امداد ہوگئی۔

ہمتی نے 2018ء میں ملک میں سیلاب واقعے کے دورات آسٹرین ریڈ کریسنٹ کمیٹی کیجانب سے ایران کی امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ اس طرح کے امداد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکی ظالمانہ پابندیوں کے دوران، آسٹرین ریڈ کریسنٹ کمیٹی کی مدد سے کوویڈ-19 کا شکار بیماروں کیلئے وینٹی لیٹر مشین کی فراہم کرسکیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 0 =