ایران اور عراق 20 بلین ڈالر کے تجارتی تبادلے کے حصول کیلیے کوشاں ہیں

تہران، ارنا - ایران عراق کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے کہا ہے کہ عراقی وزیر اعظم کا دورہ ایران دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی ترقی اور مضبوطی پر اہم اثر پڑے گا اور ایران اور عراق 20 بلین ڈالر کے تجارتی تبادلے کے حصول کیلیے کوشاں ہیں۔

یہ بات یحیی آل اسحاق نے منگل کے روز عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے آج کے دورے ایران کے حوالے سے ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس سفر کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 20 ارب ڈالر کے تجارتی حجم تک پہنچنے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

آل اسحاق نے کہا کہ ایران اور عراق 20 بلین ڈالر کے تجارتی حجم کے حصول کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے ایران سے بجلی حاصل کرنے کے لئے عراق کے قرضوں کو اس دورے کے اہم موضوعات میں سے ایک سمجا اور کہا کہ اس سے پہلے ایران پر لگ بھگ 3 بلین ڈالر کے قرض کی ادائیگی پر اتفاق کیا گیا ہے،جس پر آہستہ آہستہ عمل درآمد کیا جارہا ہے اور اس سفر کے دوران ادائیگی کے نظام کی جانچ کی جائے گی۔

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اس دورے کے دوران عام معاشی امور پر توجہ کی جائے گی اور ایران کی جنوبی سرحدوں میں کورونا وائرس کے پھیلنے اور صحت سے متعلق لاک ڈاون کے پیش نظر یہ دورہ تجارت کے دوبارہ کھلنے اور بحالی میں بہتری پر براہ راست اثر پڑسکتا ہے۔

عراقی وزیر اعظم کا دورہ ایران باہمی تعلقات کی ترقی اور استحکام پر ایک اہم اثر پڑے گا اور یہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات میں سنجیدہ کردار ادا کرے گا۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق، 1398 میں عراق کو ایران کی برآمدات کی مالیت تقریبا 9 بلین ڈالر تھی۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں 1 ارب 450 ملین ڈالر( 5 ملین ٹن) سامان عراق برآمد کیا گیا تھا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 0 =